Ahsan-ut-Tafaseer - Maryam : 34
ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ
ذٰلِكَ : یہ عِيْسَى : عیسیٰ ابْنُ مَرْيَمَ : ابن مریم قَوْلَ : بات الْحَقِّ : سچی الَّذِيْ فِيْهِ : وہ جس میں يَمْتَرُوْنَ : وہ شک کرتے ہیں
یہ مریم کے بیٹے عیسیٰ ٰ ہیں (اور یہ) سچ بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں
34:۔ یہود اور نصارٰی دونوں حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کے باب میں طرح طرح کے شک میں پڑے ہوئے ہیں شہود کا شک حضرت مریم کے باب میں یہ ہے کہ حضرت مریم کو وہ یوسف نجار کے ساتھ زنا کی تہمت لگاتے ہیں اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے باب میں ان کا شک یہ ہے کہ نہ وہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو حلال کی اولاد جانتے ہیں نہ نبی جانتے ہیں جب کہ حضرت عیسیٰ نبی ہوئے اور طرح طرح کے معجزے ان سے ظاہر ہوئے اسی شک سے کہ وہ نبی نہیں ہیں یہود ان کے دشمن ہوگئے اور اس وقت کے یونان کے ستارہ پرست بادشاہ سے انہوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی چغلیاں کھا کر سولی کا حکم حاصل کیا آخر اللہ تعالیٰ نے ایک شخص پر حضرت عیسیٰ کی شباہت ڈال دی اور اس شخص کو مخالفوں نے سولی پر چڑھا دیا یہ قصہ سورة نساء میں ہے اور نسائی تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں اس قصہ کی تفصیل سے روایت ہے 1 ؎۔ نصارٰی کا شک حضرت عیسیٰ کے باب میں یہ ہے کہ ایک فرقہ تو نعوذ باللہ من ذلک حضرت عیسیٰ کو خدا کہتے ہیں اور ایک فرقہ حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور ایک فرقہ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ اور اللہ تعالیٰ کو ملا کر تین خدا ہونے کے قائل ہیں اگرچہ خدا تعالیٰ نے ان آیتوں میں حضرت مریم کی برائت کا اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا اللہ کا بندہ اور رسول ہونے کا ذکر فرما کر یہودو نصاری دونوں کے شک کو رفع فرما دیا ہے لیکن ہر کام کا وقت اللہ کی جناب میں مقرر ہے قیامت کے قریب جس حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) دجال کو قتل کرنے کے لیے آسمان سے اتر کر زمین پر آئیں گے اس وقت ان دونوں کا شک جائے گا اور دونوں حضرت عیسیٰ کو رسول جان کر ایمان لائیں گے سورة نساء میں اس کا ذکر گزرا ہے 2 ؎ اور صحیح حدیثوں میں اس کی تفصیل آئی ہے نصاری میں کا جو فرقہ حضرت عیسیٰ و مریم (علیہما السلام) اور اللہ تعالیٰ کو ملا کر خدا کہتا ہے اس کو تثلیث کا فرقہ کہتے ہیں اس فرقہ کو تو ان میں کے فرقہ پر ونسٹنٹ نے یوں جھٹلا دیا ہے کہ یہ تثلیث کا مسئلہ انجیل میں نہیں ہے یہ پر ونسٹنٹ فرقہ انجیلی کہلاتا ہے یہ لوگ تثلیث کے مسئلہ کو انجیل کے مابعد کا مسئلہ خیال کر کے اپنی کتابوں میں اس کا ذکر نہیں کرتے علاوہ اس کے تین خدا کو ماننا کھلم کھلا شرک ہے اور انجیل یوحنا کے سترھویں باب میں لکھا ہے کہ مشرک کا ٹھکانا دوزخ ہے اس سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اس طرح شرک کا پھیلانے والا مسئلہ کسی طرح انجیل کے حکم کے موافق نہیں ہوسکتا انجیل متی کا تیسرا اور چوتھا باب دیکھنے کے قابل ہے جس میں عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک اور اپنے آپ کو اللہ کا بندہ ٹھہرایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ نصارٰی میں جو فرقے عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا یا خدا کا بیٹا کہتے ہیں ان کا اعتقاد عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بعضے لوگوں کے ” الہاموں “ کی بنا پر پیدا ہوئے ہیں اور یہ بھی گزر چکا ہے کہ یوحنا حواری نے اپنے رسالہ کے چوتھے باب میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کے الہاموں کو بےاعتبار ٹھہرا دیا ہے سورة المائدہ اور سورة التوبہ میں بھی عیسائیوں کا حال گزر چکا ہے صحیح بخاری ومسلم میں عبادہ ؓ بن الصامت سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بندے اور رسول ہونے کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے 3 ؎۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہود اور نصاری نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصلی حال میں طرح طرح کی غلط باتیں تراش لی تھیں اس واسطے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے بندے اور رسول ہونے کو قول الحق فرمایا اسی طرح اللہ کے رسول ﷺ نے بھی خاص طور پر اس حق بات کو جتلا دیا۔ (1 ؎ دیکھئے ج 1 ص 240 تفسیر ہذا ) (2 ؎ تفسیر ہذاج 1 ص 94 ) (3 ؎ صحیح بخاری ص 488 ج 1 باب قولہ یا اہل الکتاب لا تغلوافی دینکم الخ )
Top