Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Muminoon : 58
وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ
وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ هُمْ : وہ بِاٰيٰتِ : آیتوں پر رَبِّهِمْ : اپنا رب يُؤْمِنُوْنَ : ایمان رکھتے ہیں
اور جو اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں
58۔ 61:۔ اوپر کی آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو اللہ تعالیٰ کی خلاف مرضی کام کرتے ہیں ‘ ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق کاموں میں لگے رہتے ہیں ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ نیک ٹھہر چکے ہیں وہ ایسے لوگ ہیں کہ نیک کام کرنے کے بعد بھی عذاب آخرت کا اندیشہ ان کو لگا رہتا ہے ‘ احکام الٰہی کی آیتوں کا ان کے دل میں کلام الٰہی ہونے کا پورا یقین ہے اس لیے وہ ان احکام کے موافق خالص دل سے عمل کرتے ہیں ‘ شرک یا ریاکاری کے طور پر اپنے اس دینی عمل میں کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتے ‘ صدقہ ‘ خیرات اور ہر طرح کا نیک کام کرتے ہیں اور پھر بھی اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کے وقت کا یہ کھٹکا ان کے دل میں لگا ہوا ہے کہ اس وقت یہ نیک عمل بارگاہ الٰہی میں قبول ہونے کے قابل نکلتے ہیں یا نہیں آخر کو فرمایا یہ لوگ وہ ہیں جو ہر طرح کی بھلائی کی طرف پیش قدمی کر کے دوڑتے ہیں وَھُمْ لَھَا سَابِقُوْنَ کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا صحیح قول یہی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ‘ ہیں۔ آخری آیت میں ان ہی کا ذکر ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق جو لوگ دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے نیک ٹھہر چکے ہیں دنیا میں پیدا ہونے کے بعد وہی لوگ نیک کاموں کے کرنے میں پیش قدمی کرتے ہیں اور ان ہی لوگوں کو نیک کام اچھے اور آسان معلوم ہوتے ہیں وَھُمْ لَھَا سَابِقُوْنَ کی جو تفسیر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق اوپر بیان کی گئی۔ اس حدیث سے اس کی پوری تائید ہوتی ہے ‘ مسند امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابن ماجہ ‘ مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ یہ آیتیں ایسے لوگوں کی شان میں ہیں جو نیک کام کرتے ہیں اور پھر بھی ان کے دل میں یہ کھٹکا لگا ہوا ہے کہ ان کے وہ نیک کام بارگاہ الٰہی میں قبول ہونے کے قابل ہیں یا نہیں ‘ جس طرح کے لوگوں کی شان میں یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے ‘ اس شان نزول کی روایت کو صحیح کہا 2 ؎ ہے ‘ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 3 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا منکر شریعت لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی اگر پوری رحمت کا حال معلوم ہوجاوے تو منکر لوگوں کو بھی جنت میں داخل ہونے کی امید پیدا ہوجاوے ‘ اسی طرح پابند شریعت نیک لوگوں کو عذاب الٰہی کا پورا حال معلوم ہوجاوے تو عذاب الٰہی کا خوف ان کے دل پر ہر وقت رہے ‘ اس حدیث سے حضرت عائشہ ؓ کی روایت کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ مطلب ان دونوں حدیثوں کا قریب قریب ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کہ ایماندار آدمی کو کسی حال میں عذاب الٰہی سے نڈر نہیں ہونا چاہیے۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 248 ج 3 ) (2 ؎ صحیح مسلم ص 334 ج 2 کتاب القدر ) (3 ؎ تنقیح الرواۃ ص 26 باب الایمان بالقدر )
Top