Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Muminoon : 82
قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ
قَالُوْٓا : وہ بولے ءَاِذَا : کیا جب مِتْنَا : ہم مرگئے وَكُنَّا تُرَابًا : اور ہم ہوگئے مٹی وَّعِظَامًا : اور ہڈیاں ءَ اِنَّا : کیا ہم لَمَبْعُوْثُوْنَ : پھر اٹھائے جائیں گے
کہتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے اور استخوان (بوسیدہ کے سوا کچھ) نہ رہے گا تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے ؟
82۔ 90:۔ حشر کے منکر جو لوگ اب ہیں یا پچھلے زمانہ کے قصے سنتے آئے ہیں ‘ اسی طرح یہ بھی ایک قصہ ہے کہ ایک دفعہ مر کر پھر جینا ہے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں منکرین حشر سے یہ پوچھا ہے کہ آخر ایک دفعہ تمام جہاں نیست سے ہست جو ہوا ہے یہ کس نے پیدا کیا ہے ‘ نمرود ‘ فرعون ‘ ان لوگوں کی طرح حشر کا انکار اور خدائی دعویٰ کرتے کرتے مرگئے ‘ کیا انہوں نے کچھ پیدا کیا تھا یا ان منکرین حشر کے بتوں نے کچھ پیدا کیا ہے۔ جب مجبوری سے یہ لوگ یہی جواب دیں گے کہ جو کچھ پیدا کیا ہے وہ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے تو اسی اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جس طرح ایک دفعہ سارا جہان نیست سے ہست ہوا ہے ‘ اسی طرح نیک وبد کی جزا وسزا کے لیے دوسری دفعہ پھر وہی ہونا ہے جو ایک دفعہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہوچکا ہے تاکہ جزا وسزا کے ہوجانے کے بعد دنیا کا پیدا کیا جانا ٹھکانے لگے ‘ ان لوگوں کے پاس کیا دلیل ہے جو آنکھوں کی دیکھی ہوئی چیز کو جھٹلاتے ہیں۔ ابوہریرہ ؓ اور ابو سعید خدری ؓ سے جو صحیح بخاری میں روایتیں 1 ؎ ہیں ‘ ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ‘ جب قیامت کے دن سب لوگ جمع ہوں گے تو اللہ کے حکم سے فرشتے پکاریں گے کہ دنیا میں جس طرح لوگوں کے گروہ تھے ‘ کوئی بت پرست تھا ‘ کوئی آتش پرست ‘ آج وہ ہر ایک گروہ علیحدہ علیحدہ ہوجاوے سب گروہ الگ ہو کر اپنے فرضی معبودوں کے ساتھ ہوجاویں گے مگر جو لوگ قیامت کے حساب و کتاب کو اور اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کو حق جان کر اللہ کی عبادت کرتے تھے وہ باقی رہ جائیں گے لیکن ابھی تک اس گروہ میں وہ لوگ بھی شریک ہوں گے جو اوپرے دل سے دکھاوے کے طور پر اللہ کی عبادت کرتے تھے ‘ اس سارے گروہ کی توحید آزمانے کے لیے ایک ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ لوگوں کو نظر آوے گا جس کو دیکھ کر ان خدا پرست لوگوں کا دل گواہی دے گا کہ یہ ان کا معبود نہیں ہے اس لیے یہ لوگ کہیں گے تم ہمارے خدا نہیں ‘ ہمارے دل میں ہمارے خدا نے اپنی خاص پہچان رکھی ہے ‘ جب ہم اپنے خدا کو دیکھیں گے تو خود پہچان لیں گے ‘ غرض پھر خدا کا اصلی دیدار ہوگا اور خالص توحید والے اس وقت اللہ تعالیٰ کو سجدہ کریں گے اور منافقوں کی کمر تختہ ہوجاوے گی ‘ وہ سجدہ نہ کرسکیں گے ‘ پھر خالص توحید والا گروہ نجات پاوے گا اور سب گروہ طرح طرح کے عذاب میں مبتلا ہوجاویں گے ‘ حاصل کلام یہ کہ شریعت میں حشر اور قیامت پر ایمان لانا جو شرط ٹھہرا ہے اور اس شرط کے سبب سے قرآن شریف میں منکرین حشر کی جگہ جگہ مذمت جو آئی ہے اس کا سبب یہی ہے کہ جب تک جزا وسزا کا پورا یقین نہ ہو خالص دل سے نیک عمل کرنے اور بدعمل سے بچنے کا شوق اور ارادہ آدمی کے دل میں پیدا نہیں ہوسکتا اور جب نیت ہی آدمی کی درست نہ ہو تو تمام عمر نیک کام اوپرے دل سے اگر کوئی کرتا رہے یا برے کام سے بچتا رہے تو کچھ فائدہ نہیں اس لیے جہاں کہیں قرآن شریف میں منکرین حشر کا ذکر ہے وہ ایسے لوگوں سے بھی کسی قدر متعلق ہے جن کو اگرچہ حشر اور قیامت کا صاف انکار تو نہیں ہے لیکن ان کو پورا یقین بھی سزا وجزا کا نہیں ہے چناچہ اس یقین کی کوتاہی کے سبب سے ان کی نیت دین کے کام میں ڈانواں ڈول رہتی ہے اور یہی ڈانواں ڈول اوپر کی صحیح حدیثوں کے بموجب ان لوگوں کے خالص نیت سے عمل کرنے والے گروہ کے ذیل سے بالکل الگ کردے گا اور خدا تعالیٰ کو دیکھنے کے بعد کا ان کو خالص نیت کا سجدہ نصیب نہ ہوگا ‘ اس واسطے منکرین حشر کا ذکر سن کر اس طرح کے ڈانواں ڈول لوگوں کو بھی اپنے حال پر ذرا عبرت چاہیے کہ آخرت کے معاملہ میں ایک طرح کی غفلت کے سبب سے جو کچھ یہ لوگ کرتے ہیں ‘ وہ خالص اللہ کے واسطے نہیں کرتے بلکہ عمل کچھ ہے اور نیت کچھ ہے وَھْوَ یِجُیْرُ وَلَا یُجَارُعَلَیْہِ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر وقت بلا سے انسان کو بچاتا ہے مگر اس کے حکم سے جو آفت انسان پر آوے تو اس سے سوائے اس کے کوئی دوسرا کسی کو نہیں بچا سکتا فَاَنّٰی تُسْحَرُوْنَ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح جادوگروں کے فریب سے مثلا ٹھیکریاں روپے نظر آتے ہیں اسی طرح شیطان کے فریب سے مرنے کے بعد کی سچی باتیں ان لوگوں کو جھوٹی نظر آتی ہیں ‘ آخری آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت مرنے کے بعد کو جو باتیں بیان فرمائی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق بالکل سچی ہیں ‘ جو لوگ بغیر سند کے ان باتوں کو جھٹلاتے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔ (1 ؎ جلداتا دوسری 1105۔ 1106 باب قول اللہ وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ الٰایۃ )
Top