Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Muminoon : 94
رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ
رَبِّ : اے میرے رب فَلَا تَجْعَلْنِيْ : پس تو مجھے نہ کرنا فِي : میں الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : ظالم لوگ
تو اے پروردگار مجھے (اس سے محفوظ رکھیے اور) ان ظالموں میں شامل نہ کیجیو
94۔ 98:۔ اوپر شرک کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں جتلایا کہ اگر یہ مکہ کے مشرک شرک سے باز نہ آویں گے تو جس طرح ان لوگوں سے عذاب کے نازل کرنے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اس وعدہ کے ظہور پر قادر ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس واسطے وقت مقررہ کے آتے ہی ان مشرکوں پر ایک نہ ایک دن وہ عذاب ضرور آوے گا اس عذاب کے آنے کو ضروری جان کر اے رسول اللہ کے تم اللہ سے یہ دعا کیا کرو کہ یا اللہ تو اپنی قدرت سے مجھ کو اس لائق عذاب قوم میں نہ رکھیو ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول فرمائی اور بدر کی لڑائی کا وقت آنے سے پہلے مکہ سے ہجرت کرنے کا حکم دے دیا ‘ بدر کی لڑائی کے وقت مشرکین مکہ میں کے بڑے بڑے سرکشوں پر جو عذاب آیا ‘ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک کی روایت سے اس کا قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے ‘ آگے فرمایا ‘ ہجرت کا وقت آنے تک یہ مشرک کچھ ایذا دیویں تو اس کو درگزر کر کے ٹال دینا چاہیے اور اس ضعف اسلام کے زمانہ میں شیطان کی چھیڑ اور اس کے غلبہ سے اللہ کی پناہ کی دعا مانگنی چاہیے کیونکہ شیطان یہ چاہتا ہے کہ اس ضعف اسلام کے زمانہ میں مسلمانوں اور مشرکوں میں لڑائی کرا دیوے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ابھی اس لڑائی کا وقت نہیں آیا جس سے اسلام کے غلبہ کا نتیجہ نکلے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں سلیمان سے روایت 1 ؎ ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک شخص کو غصہ کی حالت میں دیکھ کر فرمایا اگر یہ شخص اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھے تو ابھی اس کا غصہ جاتا رہے ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ غصہ شیطان کے وسوسہ سے آتا ہے اور اللہ سے پناہ مانگتے ہی اس کا اثر جاتا رہتا ہے۔ (1 ؎ الترغیب (باب) الترہیب من الغضب الخ ص 450 ج 3 )
Top