Ahsan-ut-Tafaseer - Ash-Shura : 30
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ
وَمَآ اَصَابَكُمْ : اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو مِّنْ : کوئی مُّصِيْبَةٍ : مصیبت فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ : پس بوجہ اس کے جو کمائی کی تمہارے ہاتھوں نے وَيَعْفُوْا : اور وہ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف ہی کردیتا ہے
30۔ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ یہ آیت خاص کافروں کی شان میں ہے اور معنی آیت کے ان مفسروں نے یہ بیان کئے گئے ہیں کہ کافروں کے کفر اور مشرکوں کے شرک سے فوراً جو عذاب الٰہی نہیں آتا بلکہ ایک وقت مقررہ پر ان کی شامت اعمال سے کوئی مصیبت آتی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ ان لوگوں کے بہت سے برے کاموں کو درگزر فرما کر معاف فرما دیتا ہے لیکن یہ قول مرفوع تفسیر کے مخالف ہے کیونکہ مسند امام 3 ؎ احمد مستدرک حاکم مسند اسحاق بن راہویہ مسند ابو یعلی موصلی وغیرہ میں حضرت علی ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا مسلمانوں کے لئے قرآن شریف میں یہ آیت بڑی فضیلت کی آیت ہے کیونکہ میں نے آنحضرت ﷺ سے اس آیت کی تفسیر یوں سنی ہے کہ مسلمانوں کو دنیا میں جو کچھ دکھ درد پہنچتا ہے وہ دنیا میں ہی ان کے گناہوں کا بدلہ ہوجاتا ہے اور بہت سے گناہ اللہ تعالیٰ یونہی بغیر بدلہ کے معاف فرما دیتا ہے اگرچہ حضرت علی ؓ کی روایت کی سند میں ایک راوی ازہر ؓ بن راشد ضعیف ہے۔ لیکن صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم میں ابو سعید ؓ خدری اور ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں ہیں کہ ایماندار شخص کو ایک کانٹا چبھنے کی تکلیف ہو تو وہ بھی گناہوں کا کفارہ ہے ان روایتوں سے حضرت علی ؓ کی روایت کو تقویت ہوجاتی ہے غرض صحیح تفسیر آیت کی یہ ہے کہ آیت خاص کافروں کے حق میں نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے حق میں بھی یہ بڑی فضیلت کی آیت ہے مسند 2 ؎ امام احمد میں حضرت عائشہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان آدمی کے جب گناہ بہت ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان گناہوں کے کفارہ کے طور پر اس شخص کو کسی رنج میں مبتلا کردیتا ہے اس حدیث کی سند کے ایک راوی لیث بن ابی سلیم کو اگرچہ بعض علماء نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن ابن معین نے معتبر قرار دیا ہے صحیح بخاری 3 ؎ میں حضرت عبد اللہ ؓ بن مسعود کی حدیث مشہور ہے جس کا حاصل یہ ہے آنحضرت ﷺ کو ایک دفعہ بخار تھا حضرت عبد اللہ ؓ بن مسعود نے عرض کیا کہ حضرت آپ کو بڑا سخت بخار آیا کرتا ہے آپ نے فرمایا کہ مجھ کو دو آدمیوں کے بخار کے برابر ہمیشہ بخار آتا کرتا ہے۔ حضرت عبد اللہ ؓ بن مسعود نے کہا کہ آپ کو یہ شدت بخار کی اس لئے ہوا کرتی ہے کہ اجر زیادہ ملے آپ نے فرمایا کہ ہاں ہر مسلمان کو جب کوئی مرض یا کوئی رنج یا غم دنیا میں ہوتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح خزاں کے موسم میں درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔ صحیح 4 ؎ مسلم میں حضرت جابر ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا بخار کو برا نہیں کہنا چاہئے انسان کے گناہ جھڑتے ہیں۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ دنیا میں انسان کو جانی مالی جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے وہ اس کے بعض گناہوں کے سبب سے ہوتی ہے کیونکہ بنی آدم کے بہت سے گناہ بغیر کسی مواخذہ کے اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔ سورة الفاطر میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ بنی آدم کے ہر ایک گناہ پر مواخذہ کرے تو ساری دنیا ویران ہوجائے۔ سورة الفاطر کی آیت ولویو اخذ اللہ الناس بما کسبوا کو اس آیت کے ساتھ ملانے سے اگر گناہوں کے معاف ہوجانے اور بعض گناہوں پر مواخذہ کے طور پر مصیبت کے آنے کی حکمت اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے اور یہ بات بھی سمجھ میں آسکتی ہے کہ اس آخری زمانہ میں گناہوں کی کثرت ہے اس لئے طاعون وبا اور قحط کی بلا اکثر آتی ہے اگر لوگ پچھلے گناہوں سے توبہ کر کے آئندہ گناہوں سے باز آئیں گے تو ان بلاؤں سے امن میں رہنے کی پوری امید ہے۔ (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 116 ج 4) (1 ؎ صحیح بخاری کتاب المرضی ص 843 ج 2۔ ) (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 116 ج 4۔ ) (3 ؎ صحیح بخاری باب شدۃ المرض ص 843 ج 2۔ ) (4 ؎ صحیح مسلم باب ثواب المومن فیما یصیبہ من مرض الخ ص 319 ج 2۔ )
Top