Ahsan-ut-Tafaseer - Ash-Shura : 36
فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ
فَمَآ اُوْتِيْتُمْ : پس جو بھی دیے گئے تم مِّنْ شَيْءٍ : کوئی چیز فَمَتَاعُ : تو سامان ہے الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیا کی زندگی کا وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ : اور جو اللہ کے پاس ہے خَيْرٌ : بہتر ہے وَّاَبْقٰى : اور زیادہ باقی رہنے والا ہے لِلَّذِيْنَ : ان لوگوں کے لیے اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَعَلٰي رَبِّهِمْ : اور اپنے رب پر يَتَوَكَّلُوْنَ : وہ توکل کرتے ہیں
(لوگو ! ) جو (مال و متاع) تم کو دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا (ناپائدار) فائدہ ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ بہتر اور قائم رہنے والا ہے (یعنی) ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں
36۔ 43۔ دنیا کی کسی چیز کو قیام نہیں جتنی دنیا کی راحت کی چیزیں ہیں ان کے پیچھے ایک مصیبت لگی ہوئی ہے زندگی کے پیچھے موت لگی ہوئی ہے صحت کے پیچھے بیماری فراغت کے پیچھے تنگ دستی خوشی کے پیچھے رنج جوانی کے پیچھے بڑھاپا لگا ہوا ہے عقبیٰ کی جتنی راحت کی چیزیں ہیں ان کو ہمیشگی اور قیام ہے وہاں کی جوانی کو بڑھاپا نہیں صحت کو بیماری نہیں خوشی کو رنج نہیں دنیا کی ناپائیدار چیزوں میں اس طرح انسان کو گرفتار نہیں ہونا چاہئے جس سے عقبیٰ کی ہمیشہ کی راحت میں خلل پڑجائے اس لئے فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ چند روزہ ہے اور عقبیٰ میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے وہ ہمیشہ کے لئے راحت کی چیزیں ہیں یہ قرآن کی آیتوں میں جھگڑے نکالنے والوں کو سمجھایا گیا ہے کہ چند روزہ زندگی اور مالداری کے غرور میں ہمیشہ کی راحت کو ہاتھ سے نہیں دینا چاہئے۔ صحیح بخاری 1 ؎ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عمر کی حدیث مشہور ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ ؓ بن عمر کے دونوں بازو پکڑ کے بہت بڑی نصیحت کی ہے اس نصیحت کا ایک ٹکڑا یہ ہے کہ زندگی کے زمانہ میں ایسا کام کرنا چاہئے جو موت کے بعد کام آئے اور بیماری کے زمانہ میں آدمی کی طاقت گھٹ جاتی ہے اور نیک کام کرنے کا موقع اس کو کم ملتا ہے اس واسطے صحت کے زمامنہ کو غنیمت جان کر آدمی کو چاہئے کہ جو نیک کام کرنا ہو وہ صحت کے زمانہ میں کرلیں اور موت کے بعد آدمی کا نیک عمل بند ہوجاتا ہے اس لئے زندگی کے زمانہ کے اکثر حصہ زندگی کو نیک کاموں میں صرف کرنا چاہئے۔ مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو ایک روایت ہے وہ بھی آنحضرت ﷺ نے اسی طرح نصیحت کی ہے غرض یہ آیت اور دنیا کی مذمت کی جو آیتیں قرآن شریف میں اور ہیں ان حدیثوں کو اور اسی قسم کی اور حدیثوں کو ان آیتوں کی تفسیر سمجھنا چاہئے جس تفسیر کا حاصل مطلب یہی ہے کہ دنیا کی جس چیز یا جس شغل سے دین میں خلل پڑے وہ قابل مذمت ہے کیونکہ ناپائیدار چیز کی حرص میں پائیدار چیز کو ہاتھ سے دینا قابل مذمت بات ہے وہاں دنیا کی جس چیز یا مشغلہ سے دین کا نفع آدمی کو حاصل ہو تو یہ ایک بڑے نفع کی تجارت ہے کس لئے کہ ناپائیدار چیز کے عوض میں پائیدار چیز کا حاصل ہونا سراپا نفع کی بات ہے۔ اب آگے فرمایا کہ یہ عقبیٰ کا ہمیشہ کا عیش ان لوگوں کے لئے ہے جو ایماندار ہیں اور اپنے ہر کام کا بھروسہ اللہ پر رکھتے ہیں اور کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں احکام الٰہی کو مانتے ہیں نماز پڑھتے ہیں اور صدقہ دیتے رہتے ہیں اور غصہ کے وقت یا تو درگزر کرتے ہیں یا اگر بدلہ لیتے ہیں تو بدلہ کی حد سے نہیں گزرتے علما کا مشہور قول کبیرہ کے باب 1 ؎ میں یہ ہے کہ جس گناہ پر شریعت میں عذاب کا (1 ؎ مرعاۃ المفاتیح جلد اول باب الکبائر ص 73۔ ) وعدہ آیا ہے یا لعنت آئی ہے یا قرآن یا حدیث میں جتلایا ہے کہ یہ کبیرہ گناہ ہے وہ کبیرہ گناہ ہے اور یہی کبیرہ گناہ اکبر الکبائر ہوجاتا ہے جب کہ شریعت کا عذاب کا وعدہ اور سخت ہوجائے مثلاً مطلق زنا کبیرہ گناہ ہے اور پڑوس کی عورت کے ساتھ اکبر الکبائر ہے کہ اس پر عذاب کا وعدہ سخت ہے اور اسی اکبر الکبائر کبیرہ گناہ کو فاحشہ بھی کہتے ہیں اگرچہ ایک قول یہ بھی ہے کہ جس گناہ پر حد شرعی ہے وہ کبیرہ گناہ ہے لیکن اس قول پر علما نے یہ اعتراض کیا ہے کہ جھوٹی قسم کھانے پر اور جھوٹی گواہی دینے پر حد شرعی نہیں ہے حالانکہ صحیح حدیثوں میں ایٓا ہے کہ یہ کبیرہ گناہ ہیں کبھی صغیرہ گناہ کبیرہ ہوجاتے ہیں جس طرح نصاب سے کم مال کی چوری صغیرہ گناہ ہے اگر یہی چوری ایسے شخص کے گھر میں کی جائے کہ جس کے پاس سوا اس کے مال کے اور مال نہ ہو تو یہ چوری کبیرہ گناہ ہے کیونکہ اس چوری سے مال والے کا دب بہت دکھے گا معتبر سند سے شعب الایمان 2 ؎ بیہقی میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی امت کو ہر کام میں مشورہ لے کر کام کرنے کی ترغیب دلائی ہے اور یہ فرمایا ہے کہ مشورہ لے کر کام کرنے سے اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے آیتوں میں مشورہ لے کر کام کرنے والوں کی جو تعریف ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آپس کا مشورہ اللہ کی رحمت کا سبب ہے اب یہ ظاہر بات ہے کہ جس کام میں اللہ کی رحمت شامل حال ہوگی اس کا انجام ضرور اچھا ہوگا۔ صحیح 3 ؎ مسلم اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو شخص بدلہ لینے کی جگہ معافی سے کام لے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی عزت بڑھا دے گا۔ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی دوسری حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا غصہ کے وقت اپنے دل کو قابو میں رکھنا بڑی جوانمردی کا کام ہے ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بدلا لینے کے وقت دل کو قابو میں رکھ کر جو شخص معافی سے کام لے گا تو وہ بڑا صاحب ہمت ہے اور نتیجہ اس عالی ہمتی کا یہ ہے کہ اس ظاہری ہتک کے معاوضہ میں اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی عزت کو لوگوں کی نظروں میں بڑھا دے گا۔ (1 ؎ صحیح بخاری باب قول النبی ﷺ کن فی الدنیا کانک غریب ص 949 ج 2۔ ) (2 ؎ الترغیب والترہیب ص 464 ج 4۔ ) (2 ؎ فتح القدیر ص 362 ج 1۔ ) (3 ؎ صحیح مسلم باب استحباب العفور التواضح ص 321 ج 2) (4 ؎ صحیح بخاری باب الحذر من الخضب ص 903 ج 2۔ )
Top