Ahsan-ut-Tafaseer - Ash-Shura : 44
وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ
وَمَنْ يُّضْلِلِ : اور جس کو بھٹکا دے۔ گمراہ کردے اللّٰهُ : اللہ فَمَا لَهٗ : تو نہیں اس کے لیے مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست مِّنْۢ بَعْدِهٖ : اس کے بعد وَتَرَى الظّٰلِمِيْنَ : اور تم دیکھو گے ظالموں کو لَمَّا : جب رَاَوُا الْعَذَابَ : وہ دیکھ لیں گے عذاب يَقُوْلُوْنَ : وہ کہیں گے هَلْ : کیا اِلٰى مَرَدٍّ : لوٹنے کی طرف۔ پلٹنے کی طرف مِّنْ : کوئی سَبِيْلٍ : راستہ ہے
اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ (دوزخ کا) عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کیا (دنیا میں) واپس جانے کی کوئی سبیل ہے ؟
44۔ 50۔ اوپر اچھے لوگوں کی عادتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا یہ اچھی عادتوں کے وہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک قرار پا چکے ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں بد قرار پا چکے ہیں وہ اپنے ارادہ سے تو اچھی عادتوں کو اختیار نہیں کرتے اور مجبور کرکے کسی کو راہ راست پر لانا اللہ کو منظور نہیں ہے اس واسطے مرتے دم تک ایسے لوگ اپنی بد عاتوں پر رہیں گے اور قیامت کے دن ان لوگوں کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ میدان حشر میں جب جہنم کو اس طرح لایا جائے گا کہ جہنم کی ستر ہزار نکیلیں اونٹ کی سی ہوں گی اور ہر ہر نکیل پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے اور ان نکیلوں کو کھینچ رہے ہوں گے جس کی صراحت صحیح 1 ؎ مسلم میں حضرت عبد اللہ ؓ بن مسعود کی روایت سے آئی ہے غرض جہنم کو اس حالت میں دیکھ کر وہ لوگ بہت گھبرائیں گے اور یہ تمنا کریں گے کہ ان کو دوبارہ دنیا میں جانے کی پروانگی مل جائے تاکہ وہ دوبارہ دنیا میں جا کر نیک کام کریں اور عذاب دوزخ سے نجات پائیں اور جس طرح یہ اللہ اور اللہ کے رسول کے نافرمان لوگ جہنم کو دیکھ کر دنیا میں دوبارہ آنے کی تمنا اور آرزو کریں گے اسی طرح موت کے وقت عذاب کے فرشتوں کو خوفناک حالت میں دیکھ کر بھی یہی آرزو کریں گے جس کا ذکر قد افلح المومنون میں گزرا کہ حتی اذا جاء احدھم الموت قال رب ارجعون لعلی اعمال صالحا جس مطلب یہ ہے کہ موت کے وقت ایسے لوگوں کو جب عذاب کے فرشتے نظرآئیں گے تو وہ دنیا میں رہ جانے اور نیک عمل کرنے کی تمنا ظاہر کریں گے بعض مفسروں نے اس آیت کی تفسیر میں موت کے وقت کی تمنا کا جو ذکر کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے صحیح تفسیر یہی ہے کہ موت کے وقت کی تمنا قد افلح المومنون کی آیت سے متعلق ہے اور حشر کے وقت کی تمنا اس آیت سے متعلق ہے یہ تو ان نافرمان لوگوں کی دو دفعہ کی تمنا دنیا میں دوبارہ آنے اور نیک عمل کرنے کی ہوئی جب یہ بد لوگ اپنے بدعملوں کی سزا بھگتنے کے لئے دوزخ میں جا پڑیں گے اور عذاب دوزخ کی تکلیف برداشت نہ کرسکتے گے تو تیسری دفعہ پھر بھی خواہش اور تمنا کریں گے جس کا ذکر سورة فاطر میں گزرا کہ ہھم یطخون فیھا ربنا اخرجنا نعمل صالحا غیر الذی کنانعمل۔ اور میدان حشر میں نیک لوگ جب ان نافرمان لوگوں کا حال دیکھیں گے کہ یہ نافرمان لوگ دوزخ کو کن انکھیوں سے دیکھ کر پھر دوبارہ دنیا میں جانے اور نیک عمل کرنے کی آرزو کر رہے ہیں تو اس وقت نیک لوگ ان نافرمان لوگوں کو قائل کرنے کے طور پر کہیں گے کہ جو وقت نیک عمل کرنے کا تھا وہ تم نافرمان لوگوں نے ہاتھ سے کھو دیا اور سرکشی کے سبب سے دنیا میں ایسی تجارت کی جس کے سبب سے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو ٹوٹے میں ڈالا یہاں گھر والوں میں مشرکوں کی نابالغ اولاد داخل نہیں ہے کیونکہ امام نووی 1 ؎ نے بڑی تحقیق کے بعد قرآن اور حدیث سے یہی بات صحیح ثابت کی ہے کہ مشرکوں کی نابالغ اولاد جنت میں جائے گی اور جن حدیثوں میں اولاد مشرکین کا دوزخ میں جانے کا ذکر ہے ان روایتوں کو ضعیف قرار دیا ہے یہ جو ایک بات مشہور ہے کہ مشرکوں کی نابالغ اولاد اہل جنت کی خادم اور خدمت گار بنائی جائے گی۔ یہ روایت مسند بزار اور مسند ابو یعلی موصلی اور طبرانی 2 ؎ وغیرہ میں ہے لیکن کوئی روایت ضعف سے خالی نہیں ہے اب نافرمان لوگوں کا عقبیٰ کا بےکسی کا حال ذکر فرما کر پھر فرمایا ہے کہ گمراہی کے سبب سے ان نافرمان لوگوں نے دنیا میں بتوں یا پیروں کو یا قبروں کو غرض جس کسی کو سوا اللہ کے اپنا حمایتی قرار دے رکھا ہے وہ کوئی ان کی بےکسی کے وقت کام نہ آئے گا اور عذاب الٰہی سے کوئی ان کو بچا نہ سکے گا پھر نصیحت کے طور پر فرمایا کہ اس بےکسی کے وقت کے آنے سے پہلے یہ نافرمان لوگ اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری قبول کرلیں تو ابھی وقت ہاتھ سے نہیں گیا ہے جب وقت ہاتھ سے جاتا رہے گا تو پھر پچھتانا کچھ کام نہ آئے گا پھر فرمایا کہ اے رسول اللہ کے اس نصیحت کے بعد بھی اگر یہ نافرمان لوگ نہ مانیں تو تمہارا کام فقط اتنا ہی ہے کہ تم ان کو اللہ کی نصیحت پہنچا دو پھر اگر یہ نہ مانیں گے تو اللہ ان سے سمجھ لے گا۔ بعض مفسروں نے اس آیت کو جہاد کے حکم سے منسوخ قراردیا ہے لیکن یہ اوپر گزر چکا ہے کہ جہاد کے حکم سے کوئی آیت منسوخ نہیں ہے پھر فرمایا کہ ان نافرمان لوگوں کے اللہ کی نصیحت نہ ماننے کا بڑا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں کسی قدر فراغت دے رکھی ہے اور یہ انسان کی جبلی عادت ہے کہ فراغت کے وقت بجائے اللہ کے شکر کے اترانے لگتا ہے اور تکلیف کے وقت اللہ کی تمام نعمتوں کو بھول کر بجائے خدا سے ڈرنے کے خدا کی ناشکری کرنے لگتا ہے پھر فرمایا کہ زمین اور آسمان سب ملک اللہ کا ہے کسی کی ناشکری اور نافرمانی سے اللہ کے ملک میں کوئی فتور نہیں پڑتا جس طرح دنیا کے بادشاہوں کا حال ہے کہ رعیت اور ملازموں کے نافرمان ہوجانے سے ان کی بادشاہت میں فتور پڑجاتا ہے خدا کی بادشاہت ایسی نہیں ہے خدا ایسا زبردست بادشاہ ہے کہ اس کو کسی نافرمانی اور ناشکری اور مخالفت کی کچھ پورا نہیں ہے جس طرح اس کی حکومت غریب لوگوں پر ہے ویسی ہی بادشاہوں پر ہے بڑے بڑے بادشاہوں میں سے جس کو چاہے بےاولاد رکھے جس کو چاہے بجائے لڑکے کے لڑکی دے کسی کا اس پر کچھ روز اور بس نہیں چل سکتا۔ صحیح بخاری و مسلم 3 ؎ کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھا لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل اب جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل پیدا ہوئے ہیں ان کو نافرمانی کے کام اچھے معلوم ہوتے ہیں اور ان کاموں کے چھوڑنے کے لئے کسی کی کوئی نصیحت ان لوگوں کے دل میں کچھ اثر پیدا نہیں کرتی۔ ابن ماجہ 1 ؎ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے لئے ایک مقام جنت میں اور ایک دوزخ میں پیدا کیا ہے جو لوگ قیامت کے دن ہمیشہ کے لئے دوزخی قرار پائیں گے ان کے جنت میں کے خالی مکانات اہل جنت کو مل جائیں گے۔ صحیح 2 ؎ مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جو لوگ اپنی مالداری کے غرور میں مرتے دم تک نافرمانی میں گرفتار رہے قیامت کے دن جب ان کو دوزخ میں جھونکا جائے گا تو پہلے ہی جھونکے کے بعد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ جس مالداری کے غرور نے تم کو اس عذاب میں پھنسایا وہ مالداری تم کو کچھ یاد ہے وہ لوگ قسم کھا کر کہیں گے کہ اس عذاب کے آگے دنیا کی وہ مالداری ہم کو کچھ یاد نہیں ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آیتوں میں جن لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ لوگ دوزخ کا عذاب دیکھ کر بہت گھبرائیں گے اور یہ تمنا کریں گے کہ ان کو دوبارہ دنیا میں جانے کی پروانگی مل جائے تاکہ دوبارہ دنیا میں جا کر نیک کام کریں اور دوزخ کے عذاب سے نجات پائیں یہ وہی لوگ ہیں جو حضرت علی ؓ کی حدیث کے موافق اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں دوزخی قرار پا چکے تھے ایسے لوگوں کے ٹوٹے کا ذکر جو آیتوں میں ہے یہ وہی ٹوٹا ہے جس کا ذکر ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ ان لوگوں کے جنت کے مقامات دوسروں کے قبضہ میں چلے جائیں گے راحت کے وقت ایسے لوگوں کی ناشکری کا ذکر جو آیتوں میں ہے۔ انس بن مالک کی حدیث سے اس راحت کا انجام اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ دوزخ کے عذاب کے آگے وہ راحت ان لوگوں کو بالکل یاد بھی نہ رہے گی۔ ومالھم من نکیر کی تفسیر میں نکیر کے معنی مجاہد نے مددگار 3 ؎ اور حمایتی کے لئے ہیں اس تفسیر میں ایک جگہ ذکر کردیا گیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس کے شاگردوں میں مجاہد کے قول کا بڑا اعتبار ہے اسی واسطے فارسی کے ترجمہ میں یہی قول لیا گیا ہے۔ اردو کے لفظی ترجمہ میں ابن جریر کا اور مرادی ترجمہ میں سدی کا قول اختیار کیا گیا ہے۔ الوپ ہوجانا اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کی آفتوں سے کوئی چھپ کر نہیں بچ سکتا الوپ انجن اس سرمہ کو کہتے ہیں جس کے لگانے سے آدمی لوگوں کی نظروں سے غائب ہوجاتا ہے۔ اس مرادی ترجمہ کا مطلب یہ ہے کہ محشر کی زمین میں کسی پہاڑ یا مکان کی آڑ نہ ہوگی کہ الوپ انجن لگانے والے شخص کی طرح کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی نگاہ سے غائب ہوجائے مرادی ترجمہ کا یہ مطلب صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی سہل ؓ بن سعد کی حدیث کے موافق ہے کیونکہ اس حدیث کا مطلب بھی یہ ہے کہ محشر کی زمین میں کسی پہاڑ یا مکان کی آڑ نہ ہوگی۔ (1 ؎ صحیح مسلم باب جھنم اعاذنا اللہ منھا۔ ص 381 ج 2۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم مع شرح نووی کتاب القدر ص 337 ج 2۔ ) (2 ؎ طبرانی اوسط ص 113 ج 1۔ ) (3 ؎ صحیح بخاری باب وکان امر اللہ قدرا مقدورا۔ صد 977 ج 2۔ ) (1 ؎ ابن ماجہ باب صفۃ الجنۃ ص 332 ) (2 ؎ صحح مسلم باب فی الکفار ص 374 ج 2۔ ) (3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 12 ج 6۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم باب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار۔ ص 371 ج 2 و صحیح بخاری باب یقبض اللہ الارض ص 965 ج 2۔
Top