Ahsan-ut-Tafaseer - Ash-Shura : 8
وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ
وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ : اور اگر اللہ چاہتا لَجَعَلَهُمْ : البتہ بنادیتا ان کو اُمَّةً : امت وَّاحِدَةً : ایک ہی وَّلٰكِنْ يُّدْخِلُ : لیکن وہ داخل کرے گا۔ وہ داخل کرتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہے گا۔ چاہتا ہے فِيْ رَحْمَتِهٖ : اپنی رحمت میں وَالظّٰلِمُوْنَ : اور ظالم مَا لَهُمْ : نہیں ان کے لیے مِّنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست وَّلَا نَصِيْرٍ : اور نہ کوئی مددگار
اور4 اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک دین پر کردیتا و لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے ۔ اور جو ظالم ہیں ان کا (قیامت کے دن) نہ کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار۔
(ف 4) پہلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب نافرمان لوگوں کو فرماں بردار بناکرتمام مخلوقات کو نیک کردیتا مگر نہیں اسکی حکمت ایسی نہیں بلکہ وہ جس کو چاہتا ہے اپنے دین کا اکرام کرتا ہے اپنی رحمت میں اپنے مقبول مذہب میں داخل فرماتا ہے اور یہ نافرمان لوگ شرک میں گرفتار ہیں اور کہتے ہیں کہ اول تو ہم حشر کے قائل نہیں اور اگر ایسا ہوا تو جن بتوں کو ہم پوجا کرتے ہیں وہ ہم کو اس دن عذاب سے بچالیوں گے ان مشرکوں کی اس بات کے جواب میں یہاں مختصر طور پرانا ہی فرمایا کہ اس دن مشرکوں کانہ کوئی ولی ہوگا کہ قیامت میں ان کو نفع دے نہ کوئی مددگار ، کہ عذاب سے بچائے۔ پھر فرمایا یہ ان لوگوں کی نادانی ہے جو یہ لوگ بتوں کو اپنا مددگار سمجھتے ہیں حشر کے دن ان کی آنکھوں کے سامنے مرے ہوئے لوگ دوبارہ زندہ ہوجائیں گے تو ان لوگوں کو یہ معلوم ہوجائیگا کہ کوئی چیز اللہ کی قدرت سے باہر نہیں، درحقیقت سب کا مالک اور والی اللہ ہی ہے اور وہ ہر بات پر زندگی موت وغیرہ پر قدرت والا ہے۔
Top