Ahsan-ut-Tafaseer - Ash-Shura : 8
وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ
وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ : اور اگر اللہ چاہتا لَجَعَلَهُمْ : البتہ بنادیتا ان کو اُمَّةً : امت وَّاحِدَةً : ایک ہی وَّلٰكِنْ يُّدْخِلُ : لیکن وہ داخل کرے گا۔ وہ داخل کرتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہے گا۔ چاہتا ہے فِيْ رَحْمَتِهٖ : اپنی رحمت میں وَالظّٰلِمُوْنَ : اور ظالم مَا لَهُمْ : نہیں ان کے لیے مِّنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست وَّلَا نَصِيْرٍ : اور نہ کوئی مددگار
اور اگر خدا چاہتا تو ان کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی یار ہے نہ مددگار
8۔ 12۔ اکثر علما کے نزدیک مشیت اور ارادے کے ایک ہی معنی ہیں۔ اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ ارادہ علم کا تابع ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ہر ایک کام کا انجام جان لیا جاتا ہے پھر اس کام کا ارادہ کیا جاتا ہے مثلاً کھیتی کرنے اور باغ لگانے سے پہلے یہ انجام سوچ لیا جاتا ہے کہ جس زمین میں کھیتی یا باغ کا ارادہ ہے اس زمین میں کھیتی اور باغ کی پیداوار ہوجائے گی تو پھر اس زمین میں کھیتی کے کرنے کا یا باغ کے لگانے کا ارادہ کیا جاتا ہے اس بنا پر پہلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب نافرمان لوگوں کو فرمان بردار بنا کر تمام مخلوقات کو نیک کردیتا لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ نافرمان قرار پا چکے ہیں اپنے اس علم کے برخلاف کسی کو مجبور کرکے راہ راست پر لانا اللہ تعالیٰ کے ارادہ میں نہیں ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو نیک توفیق دے کر اپنی رحمت میں داخل کرنا چاہتا ہے جو اس کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ہیں اور یہ نافرمان لوگ شرک میں گرفتار ہیں اور کہتے ہیں کہ اول تو ہم حشر کے قائل نہیں اور اگر ایسا ہوا تو جن بتوں کی ہم پوجا کرتے ہیں وہ ہم کو اس دن کے عذاب سے بچا لیں گے ان مشرکوں کی اب بات کے جواب میں یہاں مختصر طور پر اتنا ہی فرمایا کہ اس دن اللہ کی مرضی کے برخلاف کوئی کسی کا رفیق اور مددگار نہ ہوگا اور جگہ اس کی تفصیل گزر چکی ہے کہ جن فرشتوں اور نیک لوگوں کی مورتوں کو یہ لوگ پوجتے ہیں حشر کے دن وہ فرشتے اور نیک لوگ ان مشرکوں کی صورت سے بیزار ہوجائیں گے۔ پھر فرمایا یہ ان لوگوں کی نادانی ہے جو یہ لوگ بتوں کو اپنا مددگار سمجھتے ہیں دنیا میں تو مکہ کے قحط کے وقت ان لوگوں کو بتوں کا حال معلوم ہوگیا کہ انہوں نے اپنے بتوں سے بہت کچھ التجا کی اور ایک بوند پانی نہ پڑا حشر کے دن جب ان کی آنکھوں کے سامنے مرے ہوئے لوگ زندہ ہوجائیں گے تو ان لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ کوئی چیز اللہ کی قدرت سے باہر نہیں ہے اور جب ان کے جھوٹے معبود اس دن ان لوگوں سے بیزاری ظاہر کریں گے تو ان کو یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ اس دن سوا اللہ تعالیٰ کے اور کوئی کسی کا مددگار نہیں ہے۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی یہ تسلی فرمائی ہے کہ اگر یہ مشرک لوگ تمہاری نصیحت کو نہیں مانتے تو اس کا کچھ رنج نہ کرنا چاہئے بلکہ یہ سمجھ لینا چاہئے کہ جو لوگ اللہ کے علم غیب میں نافرمان ٹھہر چکے ہیں ان کے دل پر کسی نصیحت کا کچھ اثر نہ ہوگا۔ پھر مشرکین مکہ کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ تم لوگ جھگڑے کی باتیں جو کر رہے ہو کہ تمہارا طریقہ اچھا ہے اور دین اسلام اچھا نہیں تو اس کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ ہے وقت مقررہ پر وہ اس کا فیصلہ کر دے گا پھر اپنے رسول کو ارشاد فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میں نے تو ہر طرح سے اپنا بھروسہ اللہ ہی پر کیا اور سب کو چھوڑ کر اس کی طرف میں رجوع ہوا۔ اب آگے منکرین قدرت الٰہی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیاں یاد دلائیں کہ اس صاحب قدرت نے آسمان زمین مرد عورت نر مادہ چوپاؤں کو پیدا کیا اور پھر انسان اور چوپاؤں کی نسل بڑھائی اب جب ان باتوں اس جیسا کوئی نہیں تو لائق تعظیم بھی وہی وحدہ لا شریک ٹھہرتا ہے کیونکہ وہ ہر ایک کی التجا کو سنتا اور ہر ایک کے عمل کو دیکھتا ہے کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں اپنے علم کے موافق اس نے کسی کو خوشحال کیا ہے اور کسی کو تنگدست تاکہ خوشحال لوگوں کو تنگدست لوگوں کے کام کاج کی ضرورت رہے اور تنگدست لوگوں کو خوشحال لوگوں کے روپے پیسے کی اور اسی طرح سے دنیا کا انتظام قائم رہے۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں جانے کے قابل کام کرے گا اور کون شخص دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل۔ صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ ؓ اشعری کی وہ حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق لوح محفوظ میں جو لوگ نافرمان لکھے جا چکے ہیں ان کے حق میں قرآن کی نصیحت اللہ کی قدرت کی سب نشانیاں اسی رائیگاں ہیں جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے اور تبارک الذے میں آئے گا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس علم غیب کا امتحان کے طور پر ظہور ہوجائے کسی کو مجبور کرکے راہ راست پر لانے میں یہ امتحان کی حالت باقی نہ رہتی اس لئے اپنے علم غیب کے برخلاف مجبور کرکے کسی کو راہ راست پر لانا نہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہے نہ مجبوری کی حالت کی کوئی نیکی اس کی بارگاہ میں مقبول ہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 499 ج 4) (2 ؎ صحیح مسلم باب حجاج ادم و موسیٰ (علیہما السلام) ص 335 ج 2۔ ) (1 ؎ صحیح بخاری باب وکان امر اللہ قدر امقدورا۔ ص 977 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری باب فضل من علم و علم ص 18 ج 1۔ )
Top