Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Hashr : 10
وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠   ۧ
وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ جَآءُوْ : وہ آئے مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد يَقُوْلُوْنَ : وہ کہتے ہیں رَبَّنَا : اے ہمارے رب اغْفِرْ لَنَا : ہمیں بخشدے وَلِاِخْوَانِنَا : اور ہمارے بھائیوں کو الَّذِيْنَ : وہ جنہوں نے سَبَقُوْنَا : ہم سے سبقت کی بِالْاِيْمَانِ : ایمان میں وَلَا تَجْعَلْ : اور نہ ہونے دے فِيْ قُلُوْبِنَا : ہمارے دلوں میں غِلًّا : کوئی کینہ لِّلَّذِيْنَ : ان لوگوں کیلئے جو اٰمَنُوْا : وہ ایمان لائے رَبَّنَآ : اے ہمارے رب اِنَّكَ : بیشک تو رَءُوْفٌ : شفقت کرنیوالا رَّحِيْمٌ : رحم کرنے والا
اور (ان کے لئے بھی) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما۔ اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (وحسد) نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے۔
10۔ صحابہ کے ذکر کے بعد یہ تابعین کا ذکر ہے جن لوگوں نے حالت اسلام میں آنحضرت ﷺ کو دیکھا۔ اور پھر حالت اسلام پر مرتے دم تک قائم رہے وہ صحابہ کہلاتے ہیں اسی طرح جن لوگوں نے صحابہ کو دیکھا وہ تابعین کہلاتے ہیں اور جن لوگوں نے تابعین کو دیکھا وہ اتباع تابعین کہلاتے ہیں۔ 220 ہجری تک اتباع تابعین کا زمانہ دینداری کا رہا پھر فرقہ معتزلیوں اور فلسفیوں کا زور ہوگیا اور لوگوں کے اعتقاد اور قول فعل سلف کے موافق نہیں رہے۔ اس لئے اگرچہ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ آیت کی تفسیر فقط تابعیوں تک کے عہد سے کی جائے لیکن صحیح 1 ؎ بخاری وغیرہ میں ابو سعید خدری کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس لشکر اسلام میں صحابہ اور تابعین کے بعد اتباع تابعین میں سے کوئی شخص ہوگا تو اس لشکر کو اللہ تعالیٰ دشمن پر فتح دے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ 220 تک کے ابتدائی عہد اتباع تابعین میں بھی زمانہ سلف کی سی خیر و برکت باقی تھی۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا۔ حضرت خیر و برکت کون سے لوگوں کے زمانہ میں زیادہ ہوگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا پہلے تو خیر و برکت کا وہ زمانہ ہے جس میں میں خود موجود ہوں ‘ پھر اس کے بعد کا دوسرا زمانہ اور پھر تیسرا۔ حضرت عائشہ ؓ کی اس حدیث سے حضرت ابو سعید خدری ؓ کی اوپر کی حدیث کی اور عمران 3 ؎ بن حصین کی خیر القرون قرنی کی حدیث کی پوری صراحت ہوجاتی ہے کہ یہ سب حدیثیں اتباع تابعین تک کے ابتدائی عہد کو شامل ہیں۔ ہاں اتنی بات ہے کہ صحابہ ؓ کے بعد کے دونوں عہدوں میں نیک باتیں زیادہ تھیں اور بری باتیں کم۔ جس سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ صحابہ کے عہد کی طرح کی خیر و برکت تو صحابہ کے بعد کے دونوں عہدوں میں نہ تھی لیکن پھر بھی 220 ہجری کے مابعد کا ساحال تابعیوں کے سالم عہد اور تبع تابعین کے ابتدائی عہد میں نہ تھا۔ دو سو بیس برس کے بعد وہی حالت ہوگئی۔ جو عمران بن حصین کی بخاری وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ امانت میں خیانت کرنا جھوٹی گواہی کا دینا اور اس قسم کی باتیں لوگوں میں پھیل گئیں۔ حاصل یہ ہے کہ آیت کی تفسیر تابعیوں اور ابتدائی عہد کے تبع تابعیوں سے کی جائے تو وہ تفسیر ان صحیح حدیثوں کے موافق ہے۔ صحابہ ؓ کے زمانے میں کچھ ایسی لڑائیاں ہوئیں جن میں طرفین سے ہزارہا صحابہ کے خون سے تلواریں لال ہوگئیں۔ مثلاً فقط 36 ہجری کی حضرت معاویہ ؓ اور حضرت علی ؓ کی صفین کی لڑائی میں ستر ہزار سے زیادہ آدمی کام آئے۔ اب لڑائیوں میں صحابہ جو کام آئے آخر وہ سب تابعین کے بڑے بوڑھے تھے ‘ اس لئے صحیح حدیثوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعض تابعی لوگ اپنے بڑے بوڑھے کے انتقام کے طور پر اپنے بڑے بوڑھوں کے قاتل صحابہ کو کبھی کبھی کچھ برا بھلا کہہ اٹھتے تھے۔ چناچہ صحیح مسلم میں عروہ بن زبیر ؓ کی روایت سے حضرت عائشہ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو صحابہ کے لئے مغفرت کی دعا کا حکم دیا ہے افسوس ہے کہ وہی لوگ صحابہ کو برا کہتے ہیں۔ اس قسم کی اور بھی روایتیں ہیں۔ اللہ کے علم غیب کے آگے تو یہ آئندہ کی سب باتیں عیاں تھیں۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے تابعیوں کے ذکر میں فرمایا کہ قابل تعریف وہی تابعین ہیں جو صحابہ کو اپنا دینی بھائی سمجھ کر اپنی مغفرت کی دعاء میں ان کے لئے بھی مغفرت کی دعا کرتے ہیں پھر فرمایا اپنے بڑوں کی پچھلی حالت یاد کر کے بعض صحابہ کے حق میں خالص دل سے مغفرت دعاء ان کی زبان پر نہ آئے تو ان کو یہ دعا بھی مانگنی چاہئے کہ یا اللہ پہلے لوگوں کی طرف ہمارے دل میں کچھ بیر اور بغض ہو تو اپنی مہربانی اور رحمت سے اس کو ہمارے دل سے نکال دے۔ اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت کا اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا بڑا ثبوت ہے کیونکہ آئندہ کی جن باتوں کا ذکر اس آیت میں تھا اسی طرح ان باتوں کا ظہور ہوا۔ یہی ثبوت ان صحیح حدیثوں میں بھی ہے جن میں آپ نے آئندہ پیدا ہونے والے لوگوں کو صحابہ کی بد گوئی سے منع فرمایا ہے اس قسم کی آیتوں اور حدیثوں کے مضمون پر غور کرنے سے فرقہ شیعہ کے ان لوگوں عبرت پکڑنی چاہئے جنہوں نے صحابہ کی برائی کو اپنا مذہب قرار دے رکھا ہے۔ (1 ؎ صحیح بخاری باب فضائل اصحاب النبی ﷺ ص 515 ج 1۔ ) (2 ؎ صحیح مسلم باب فضل الصحابۃ ثم الذین یلونہم الخ ص 310۔ ) (3 ؎ صحیح بخاری باب فضائل اصحاب النبی ﷺ ص 515 ج 1۔ )
Top