بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
1۔ 5۔ سورة زحرف میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیاکا چند روزہ انتظام اس طرح فرما دیا ہے کہ کسی کو بادشاہ کیا ہے کسی کو رعیت اور ایک کی ضرورت دوسرے سے لگا دی ہے مثلاً رعیت کے لوگ کھیتی کرکے بادشاہ کو محصول دیتے ہیں فوج کے لوگ ضرورت کے وقت بادشاہ کی طرف سے لڑتے ہیں لکھنے پڑھنے والے لوگ بادشاہ کے دفتری کاموں کو انجام دیتے ہیں۔ اس طرح کے سب کاموں میں بادشاہ کی ضرورتیں رعیت اور نوکروں سے متعلق ہیں۔ کھیتی کے لئے زمین کے ملنے کی رعیت کی ضرورت خرچ کے لئے تنخواہ کے ملنے کی ضرورت فوج اور قسم کے نوکروں کی ضرورتیں بادشاہ سے متعلق ہیں یہ سب کچھ ہے مگر بادشاہ اور رعیت سب پر اصل بادشاہی خدا تعالیٰ کی ہے۔ تمام رعیت کے لوگ کئی سال موسم پر مینہ برسنے کی تمنا کرتے ہیں مگر جب تک اس بادشاہ حقیقی کا حکم نہ ہو دنیا کے بادشاہوں سے کیا ہوسکتا ہے تمام رعیت کے لوگ اور نوکر لوگ ایک بادشاہ کا صاحب اولاد ہوجانا یا ایک بادشاہ کا کسی مرض سے اچھا ہوجانا چاہتے ہیں لیکن بغیر حکم حاکم حقیقی کے کچھ نہیں ہوسکتا۔ روم کے بادشاہ کی حکومت مثلاً ایران میں نہیں اور ایران کے بادشاہ کی حکومت روم میں نہیں وہی بادشاہ حقیقی ہے جس کی بادشاہی ایک وتیرہ پر تمام دنیا میں جاری ہے۔ غرض دنیا کے بادشاہوں کی نہ تمام دنیا میں حکومت ہے نہ ہر طرح کا کارخانہ ان کے قبضہ کے ملک کا ان کے اختیار سے چل سکتا ہے ہر جگہ اور ہر طرح کا کام اللہ تعالیٰ کے ہی اختیار میں ہے اس واسطے بادشاہ اور فقیر سب کے سمجھانے کو فرمایا کہ تمام دنیا کا ملک تمام دنیا کی بادشاہی اور اس بادشاہی میں ہر طرح کی حکومت اس ایک ذات وحدہ لا شریک کے ہاتھ میں ہے جس نے تمام دنیا کو اس آزمائش کے لئے پیدا کیا کہ دنیا میں پیدا ہو کر کون نیک کام کرتا ہے اور کون بد اور پھر اپنی پیدا کی ہوئی ایسی چند چیزوں کا ذکر فرمایا جو انسان کی قدرت سے باہر ہیں تاکہ انسان کے دل میں اللہ کی قدرت کا پورا یقین جم جائے۔ موت وحیات کے پیدا کرنے سے یہ مطلب ہے کہ انسان کی ایک حالت تو وہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کی کہ وہ دنیا میں نابود اور علم الٰہی میں ایک وقت مقررہ پر اس کا دنیا میں آنا مقرر تھا پھر اس کو دنیا میں پیدا کیا جس کے سبب سے اس کی نابودی کی حالت جاتی رہی اور وہ زندگی کی حالت میں آگیا۔ کنتم امواتا فاحیاکم خلق الموت والحیات کی پوری تفسیر ہے پھر فرمایا کہ انسان کو حالت نابودی سے حالت زندگی اس لئے دی گئی ہے تاکہ دنیا کی ظاہری حالت میں کھل جائے کہ دنیا میں کس نے اچھے کام کئے اور کس نے برے ورنہ اللہ کے علم ازلی میں دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے ہی نیک و بد کا حال کھل چکا ہے۔ چناچہ صحیح 1 ؎ مسلم میں عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ دنیا کے پیدا کرنے کے بعد ہونے والا تھا اپنے علم ازلی کے موافق وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے انصاف کے موافق جزا و سزا کا مدار اپنے اس علم ازلی پر نہیں رکھا بلکہ جزا و سزا کا مدار دنیا کی ظاہری حالت پر رکھا ہے کہ جیسا کوئی کرے گا ویسا ہی پھل پائے گا۔ عزیز کے معنی زبردست حقیقت میں وہ ایسا زبردست ہے کہ اس کے حکم کے آگے سب زبردست زیر ہیں۔ بخشنے والا وہ ایسا ہے کہ جب سب کی شفاعت ختم ہوچکے گی تو ایسے لوگوں کو جنہوں نے اپنی تمام عمر میں کوئی نیک کام نہیں کیا۔ دوزخ میں سے ایک لپ بھر کر نکالے گا اور ان کو پھر جنت میں بھیج دے گا چناچہ صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم میں ابو سعید خدری کی ایک بہت بڑی حدیث میں اس کا ذکر ہے سات آسمان اس طرح بنائے کہ جس طرح پہلا آسمان دنیا کی چھت ہے اسی طرح ہر ایک آسمان دوسرے آسمان کی چھت ہے اور ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانسو برس کے راستہ کا فاصلہ ہے اسی طرح ہر ایک آسمان کا دل پانسو برس کی راہ کا ہے بغیر کسی سہارے کے اتنے بڑے دل کی یہ تہ پر تہ سات چھتیں جدا جدا فقط اس کی قدرت سے کھڑی ہیں پھر فرمایا کہ جو کوئی اللہ کی اس قدرت کو گھڑی گھڑی غور کی نگاہ سے دیکھے گا تو آخر اس کی نگاہ تھک جائے گی مگر کسی کا کیا مقدور ہے کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیز میں کسی طرح کا عیب پکڑ سکے۔ اس کے بعد اپنی قدرت کاملہ سے آسمانوں میں تاروں کو پیدا کرکے اس کی روشنی سے آسمانوں کی زینت اور رونق جو بڑھائی اس کا ذکر فرمایا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ چوری سے شیاطین آسمان پر کی کچھ خبریں سننے جو آجاتے ہیں انہی تاروں میں سے آگ کے شعلے لے کر اللہ کے فرشتے ان پر انگارے برساتے ہیں ترمذی 1 ؎ نسائی ‘ مسند امام احمد وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانہ میں آسمان کی خبروں کے روکنے کا انتظام بہ نسبت پہلے کے زیادہ ہوگیا تھا تاکہ قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانہ میں آسمان کی خبروں کے روکنے کا انتظام بہ نسبت پہلے کے زیادہ ہوگیا تھا تاکہ قرآن شریف کا کوئی مضمون اللہ کے رسول پر نازل ہونے سے پہلے چوری کے طور پر کاہن لوگوں کو نہ پہنچے۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے زیادہ تفصیل اس کی سورة جن میں آئے گی آسمان دنیا کے سوا تارے اگرچہ اور آسمانوں میں بھی ہیں لیکن اہل دنیا کا تعلق فقط آسمان دنیا سے ہے اس لئے آیت میں اس کا ذکر فرمایا۔ (1 ؎ صحیح مسلم باب حجاج ادم و موسیٰ علیھما السلام ص 225 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری کتاب الرد علی الجھمیۃ ص 1107 ج 2 و صحیح مسلم باب اثبات رویۃ المومنین فی الاخرۃ بہم الخ ص 102 ج 1۔ ) (1 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الجن ص 19 ج 2۔ )
Top