Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Waaqia : 50
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ
ءَاَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم مَّنْ : اس سے جو فِي السَّمَآءِ : آسمان میں ہے اَنْ يَّخْسِفَ : کہ دھنسا دے بِكُمُ الْاَرْضَ : تم کو زمین میں فَاِذَا هِيَ : تو اچانک وہ تَمُوْرُ : لرزنے لگے۔ پھٹ جائے
کیا تم اس جو آسمان میں ہے بےخوف ہو کہ تم کو زمین میں دہنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے
16۔ 19۔ اوپر کی آیتوں میں حشر کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ اس دن کی سزا کے یہ لوگ منکر ہیں تو اللہ کی قدرت سے یہ بھی کچھ دور نہیں کہ اس دن کی سزا سے پہلے ابھی اللہ کے حکم سے زمین کو جنبش ہو جس سے فوراً ان لوگوں کو قارون کی طرح مع ان کے گھروں کے زمین کے اندر دھسا دیا جائے یا قوم لوط کی طرح ان پر پتھروں کا مینہ برسا دیا جائے۔ جاصب اس ہوا اور گھٹا کو کہتے ہیں جس میں پتھر ہوں۔ پھر فرمایا کہ جب ایسی فوری آفت ان پر آجائے گی اس وقت اسی طرح ان لوگوں کو بھی عذاب الٰہی کی قدر کھل جائے گی جس طرح پچھلی امتوں کو عذاب میں مبتلا ہونے کے بعد عذاب کے جھٹلانے کی قدر کھل گئی اس کے بعد عقل کی رسائی سے باہر ایک اور قدرت کے نمونہ کا ذکر فرمایا کہ اگرچہ بھاری مادی چیز کا میلان اوپر سے نیچے کی طرف عقل کی رسائی کی حد تک ہے مگر پر دار جانوروں کا یہ حال ہے کہ جب تک قدرت الٰہی نے ان کو تھام رکھا ہے زمین و آسمان کے مابین ہوا میں اڑتے ہیں مطلب یہ ہوا کہ ان جانوروں کی روک تھام کی طرح اللہ تعالیٰ نے باوجود ان لوگوں کی نافرمانی کے وقت مقررہ تک ہر ایک طرح کے عذاب کو بھی اپنی رحمت سے روک رکھا ہے ورنہ وہ قادر مطلق جب چاہے ان کی ہلاکت کا کوئی سبب پیدا کرسکتا ہے کیونکہ ہر چیز اس کی نگاہ میں ہے جدھر جس ارادہ سے وہ نگاہ کرے ایک پل میں سب کچھ ہوسکتا ہے۔
Top