Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Mulk : 6
وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ
وَلِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : اور ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا بِرَبِّهِمْ : اپنے رب کے ساتھ عَذَابُ : عذاب ہے جَهَنَّمَ : جہنم کا وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ : اور کتنا برا ہے ٹھکانہ۔ لوٹنے کی جگہ
اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے انکار کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے
6۔ 11۔ اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرما کر اپنے رسولوں کی معرفت یہ سب لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیا ہے کہ یہ لوگ شیطان کو اپنا دشمن جانیں اور اس کے بہکاوے میں ہرگز نہ آئیں ‘ ورنہ جو شیطان کے بہکاوے میں آ کر اللہ کی مرضی کے برخلاف کام کرے گا ایسے نافرمان آدمیوں اور شیطان اور اس کے شیاطینوں سے دوزخ کو بھر دیا جائے گا اس قدر انتظام کے بعد بھی جب بہت سے نافرمان لوگ شیطان اور اس کے شیاطینوں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے تو دوزخ کے تعیناتی والے فرشتوں کو اس بات کا بڑا تعجب ہوگا کہ باوجود ایسے بڑے انتظام کو اتنے بہت سے آدمی دوزخ میں کیونکہ آن پڑے۔ اس لئے وہ فرشتے ان دوزخی آدمیوں سے پوچھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے انتظام کے موافق کیا اللہ کے رسولوں نے اس دن کی آفت سے تم لوگوں کو نہیں ڈرایا۔ وہ دوزخی جواب دیں گے کہ اللہ کے رسولوں ﷺ نے تو ہم کو ڈرایا تھا مگر ہم نے اپنی کم بختی کے سبب سے اللہ کے رسولوں کی نصیحت کو نہیں مانا بلکہ ان سے یہ کہہ دیا کہ تم خود بہکے ہوئے ہو جو ہم کو ہمارے باپ دادا کے طریقہ سے جدا طریقہ سکھاتے ہو پھر پچھتا کر یہ بھی کہیں گے کہ اگر دنیا میں ہم رسولوں کی نصیحت کو مان لیتے اور شیطان کے بہکاوے کے وقت کچھ خدا کی دی ہوئی عقل سے کام لیتے تو آج ہم اس بلا میں نہ پڑتے مگر اس وقت کا پچھتانا اور گناہوں کا اقرار کرنا ان کے کچھ کام نہ آئے گا بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے یہ پھٹکار ملے گی کہ اے کم بختو دور ہو اللہ کی رحمت سے ‘ ایسے نافرمان دوزخ کے مستحق ہیں جن کا اس وقت کا پچھتانا اور گناہوں کا اقرار کرنا اللہ کی جناب میں ہرگز قابل قبول نہیں۔ مصیر کے معنی اتجام کے ہیں۔ شھیق کے معنی خوفناک آواز کے ‘ یہ دوزخ کا دھاڑنا اور خوفناک آوازوں کا نکالنا اس وقت ہوگا جب اس کو ستر ہزار لگا میں لگا کر محشر میدان میں لایا جائے گا جس کا ذکر عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے صحیح 1 ؎ مسلم ترمذی وغیرہ میں ہے۔ مسند 2 ؎ امام احمد مستدرک حاکم وغیرہ میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب شیطان کو مردود ٹھہرا کر آسمان پر سے اتاراجانے لگا تو اس نے قسم کھا کر خدا تعالیٰ کے رو برو یہ بات کہی کہ جب تک بنی آدم کے دم میں دم ہے میں ہر طرح ان کے بہکانے میں کسی طرح کی کوتاہی نہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر اس مردود سے فرمایا کہ تیرے بہکانے سے گناہ کرکے جب تک وہ خالص دل سے توبہ استغفار کریں گے میں بھی ان کے گناہوں کے بخش دینے میں کبھی کوتاہی نہ کروں گا۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ غرض شیطان کی دشمنی تو ایسی پکی ہے کہ وہ اس دشمنی پر خدا کے رو برو حلف اٹھا چکا ہے ایسے پکے دشمن کے پھندے میں پھنس کر باقتضائے بشریت آدمی سے جب کوئی گناہ ہوجائے تو اس مرض کی اس دوا سے جس کا ذکر اس حدیث میں ہے آدمی کو ہرگز غافل نہ رہنا چاہئے تاکہ بغیر توبہ کے گناہ پر گناہ کرتے کرتے دل پر اس کے زنگ لگ جانے کی نوبت نہ آجائے جس کا ذکر ویل للمطففین میں آتا ہے جس زنگ سے دل بالکل مرجاتا ہے اور بغیر موت کے آنکھوں کے سامنے آجانے کے ایسے مردہ دل آدمیوں کو توبہ کی توفیق ہرگز نہیں ہوتی۔ اور یہ تو سورة نساء میں گزر چکا ہے ایسی ناامیدی کے وقت کی توبہ بارگاہ الٰہی میں قبول نہیں ہوتی۔ (1 ؎ صحیح مسلم باب جھنم اعاذنا اللہ منھا ص 381 ج 2۔ ) (2 ؎ مشکوٰۃ شریف باب فی الاستفغار والتوبۃ فصل ثانی ص 204۔ )
Top