Fi-Zilal-al-Quran - At-Tawba : 112
قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ
قَالَ : اس نے فرمایا عَمَّا قَلِيْلٍ : بہت جلد لَّيُصْبِحُنَّ : وہ ضرور رہ جائیں گے نٰدِمِيْنَ : پچھتانے والے
فرمایا بہت تھوڑی مدت ہی میں یہ ضرور پشیمان ہوجائیں گے۔
قَالَ عَمَّا قَلِيْلٍ لَّيُصْبِحُنَّ نٰدِمِيْنَ : ”قَلِيْلٍ“ کا معنی بہت کم ہے، اس کی قلت کی مزید تاکید کے لیے ”عَنْ“ کے ساتھ ”مَا“ کا اضافہ فرمایا ہے، یعنی بہت ہی کم مدت میں۔ (بقاعی)
Top