Al-Quran-al-Kareem - Al-Muminoon : 61
اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ
اُولٰٓئِكَ : یہی لوگ يُسٰرِعُوْنَ : جلدی کرتے ہیں فِي الْخَيْرٰتِ : بھلائیوں میں وَهُمْ : اور وہ لَهَا : ان کی طرف سٰبِقُوْنَ : سبقت لے جانیوالے ہیں
یہ لوگ ہیں جو نیک کاموں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی ان کی طرف آگے نکلنے والے ہیں۔
ۙاُولٰۗىِٕكَ يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَــيْرٰتِ۔۔ : یعنی یہ لوگ جن میں یہ چاروں خوبیاں ہیں یہی نیک کاموں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر جلدی کرتے ہیں اور یہی لوگ انھیں حاصل کرنے میں سبقت لے جانے والے ہیں۔ (دیکھیے سورة واقعہ : 10 تا 26) طبری نے ”وَهُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ“ کے متعلق ابن عباس ؓ کا قول حسن سند کے ساتھ نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں : ”سَبَقَتْ لَھُمُ السَّعَادَۃُ“ ”یعنی ان کی ان چاروں صفات کی وجہ سے (جو پہلے ہی اللہ کے علم میں ہیں) ان کے لیے پہلے ہی (جلدی بھلائیاں حاصل ہونے کی) سعادت طے ہوچکی ہے۔“ گویا یہ اس آیت کے ہم معنی ہے : (اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ) [ الأنبیاء : 101 ] ”بیشک وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے پہلے بھلائی طے ہوچکی، وہ اس سے دور رکھے گئے ہوں گے۔“
Top