Al-Quran-al-Kareem - Al-Muminoon : 93
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ
قُلْ : فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اِمَّا تُرِيَنِّيْ : اگر تو مجھے دکھا دے مَا يُوْعَدُوْنَ : جو ان سے وعدہ کیا جاتا ہے
تو کہہ اے میرے رب ! اگر تو کبھی مجھے ضرور ہی وہ (عذاب) دکھائے جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں۔
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِيَــنِّيْ مَا يُوْعَدُوْنَ : ”اِمَّا“ ”إِنْ“ کی تاکید ”مَا“ کے ساتھ کی گئی ہے، اس لیے ترجمہ ”اگر کبھی“ کیا گیا ہے اور ”تُرِیَنَّ“ میں نون ثقیلہ تاکید کے لیے ہے۔ مفسر بقاعی نے لکھا ہے : ”أَيْ إِنْ کَانَ وَلَا بُدَّ مِنْ أَنْ تُرِیَنِّيْ قَبْلَ مَوْتِيْ“ اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے : ”اگر تو کبھی مجھے ضرور ہی وہ (عذاب) دکھائے۔“ 3 یعنی جب اللہ تعالیٰ کی جناب میں اولاد یا شریک بنانے کی سخت گستاخی کی جاتی ہے تو یقیناً کوئی سخت آفت آ کر رہے گی، اس لیے ہر مومن کو حکم دیا گیا کہ وہ اللہ کے عذاب سے ڈر کر یہ دعا مانگے۔ 3 آیت کے اولین مخاطب رسول اللہ ﷺ ہیں، ان کے ساتھ امت کا ہر فرد بھی مخاطب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں عذاب نہ لانے کا وعدہ فرمایا ہے، فرمایا : (وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ ۭ وَمَا كَان اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ) [ الأنفال : 33 ] ”اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ انھیں عذاب دے، جب کہ تو ان میں ہو اور اللہ انھیں کبھی عذاب دینے والا نہیں جب کہ وہ بخشش مانگتے ہوں۔“ اس کے باوجود اس آیت میں آپ ﷺ کو عذاب سے بچنے کی دعا کا حکم دیا، چناچہ رسول اللہ ﷺ اللہ کے عذاب سے سخت خوف زدہ رہتے تھے اور اس سے بچنے کی دعا کرتے رہتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے، اس کے باوجود آپ کو استغفار کا حکم دیا، فرمایا : (فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ) [ النصر : 3 ] ”تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور اس سے بخشش مانگ۔“ اور آپ ﷺ کثرت سے استغفار کیا کرتے تھے۔ اس سے آپ ﷺ کی اللہ تعالیٰ سے خشیت کا اندازہ ہوتا ہے اور اس میں امت کے لیے تعلیم بھی ہے۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں : ”رسول اللہ ﷺ جب بادل یا آندھی دیکھتے تو آپ کے چہرے پر اس کے اثرات پہچانے جاتے۔“ عائشہ ؓ نے کہا : ”یا رسول اللہ ! لوگ جب بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں، اس امید پر کہ اس میں بارش ہوگی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ جب آپ اسے دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار نظر آتے ہیں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : (یَا عَاءِشَۃُ ! مَا یُؤْمِنِّيْ أَنْ یَّکُوْنَ فِیْہِ عَذَابٌ ؟ عُذِّبَ قَوْمٌ بالرِّیْحِ وَقَدْ رَأَی قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوْا ھٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (فلما رأوہ عارضا۔۔) : 4829 ] ”اے عائشہ ! کیا ضمانت ہے کہ اس میں کوئی عذاب نہ ہو ؟ ایک قوم (عاد) پر آندھی کا عذاب آیا اور ایک قوم نے عذاب دیکھا تو کہنے لگے، یہ بادل ہم پر بارش برسانے والا ہے۔“ 3 اس آیت سے معلوم ہوا کہ آدمی کو ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ پروردگار ! تو مجھے عفو اور عافیت عطا فرما اور اگر تو نے کچھ لوگوں کو عذاب دینے کا ارادہ کر ہی لیا ہو تو مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کرنا۔ معاذ بن جبل ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ دعا نقل فرمائی ہے : (اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَ تَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَ حُبَّ الْمَسَاکِیْنِ وَ أَنْ تَغْفِرَ لِيْ وَ تَرْحَمَنِيْ وَ إِذَا أَرَدْتَ فِتْنَۃً فِيْ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِيْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ ، وَ أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَ حُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَ حُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُ إِلٰی حُبِّکَ) ”اے اللہ ! میں تجھ سے نیکیاں کرنے، برائیاں چھوڑنے اور مساکین کی محبت کا سوال کرتا ہوں اور اس بات کا بھی کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کرے اور جب تو کسی قوم کے فتنے کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں ڈالے بغیر قبض کرلے۔ میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور ان لوگوں کی محبت کا جو تجھ سے محبت رکھتے ہیں اور ایسے عمل کی محبت کا جو تیری محبت کے قریب کر دے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّھَا حَقٌّ فَادْرُسُوْھَا ثُمَّ تَعَلَّمُوْھَا) [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورة صٓ : 3235، قال الترمذي حسن صحیح و قال الألباني صحیح ] ”یہ کلمات حق ہیں انھیں پڑھو، پھر انھیں اچھی طرح سیکھ لو۔“ 3 اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو یہ دعا سکھائی تاکہ مشرکین پر عذاب آئے تو آپ اس وقت ان کے ساتھ نہ ہوں، بلکہ ان سے الگ ہوں، پھر آپ ﷺ کو ہجرت کی توفیق عطا فرما کر آپ کو کافروں سے الگ کردیا اور قحط اور جنگوں کی صورت میں ان پر جو عذاب آئے آپ کو ان سے محفوظ رکھا۔
Top