Al-Quran-al-Kareem - Al-Muminoon : 96
اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ
اِدْفَعْ : دفع کرو بِالَّتِيْ : اس سے جو هِىَ : وہ اَحْسَنُ : سب سے اچھی بھلائی السَّيِّئَةَ : برائی نَحْنُ : ہم اَعْلَمُ : خوب جانتے ہیں بِمَا : اس کو جو يَصِفُوْنَ : وہ بیان کرتے ہیں
اس طریقے سے برائی کو ہٹا جو سب سے اچھا ہو، ہم زیادہ جاننے والے ہیں جو کچھ وہ بیان کرتے ہیں۔
اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ۔۔ : یعنی ہم عذاب میں جو تاخیر کر رہے ہیں اس میں ہماری حکمت ہے، آپ اس دوران ان کی ہر برائی اور زیادتی کا جواب ایسے طریقے سے دیں جو اچھا ہی نہیں، سب سے اچھا ہو۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا کچھ کہتے ہیں، کس طرح اللہ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اور کس طرح آپ کو کاہن، شاعر، جادوگر اور دیوانہ وغیرہ کہتے ہیں۔ 3 برائی کا جواب بہترین طریقے سے یہ ہے کہ بدی کا جواب نیکی سے، ظلم کا جواب انصاف سے، خیانت کا جواب دیانت داری سے، جھوٹ کا جواب سچ سے، قطع رحمی کا جواب صلہ رحمی سے اور گالی گلوچ کا جواب دعا وسلام سے دیا جائے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے کا نتیجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : (اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ) [ حٰآ السجدۃ : 34 ] ”(برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہو۔“ اس میں عفو و درگزر کی تعلیم دی گئی ہے، کیونکہ لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کے لیے یہ سب سے اچھا طریقہ ہے۔ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : (وَاللّٰہِ ! مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِہِ فِيْ شَيْءٍ یُؤْتَی إِلَیْہِ قَطُّ حَتّٰی تُنْتَھَکَ حُرُمَات اللّٰہِ فَیَنْتَقِمُ لِلّٰہِ) [ بخاري، الحدود، باب إقامۃ الحدود والانتقام لحرمات اللہ : 6786 ] ”اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھ کی گئی کسی زیادتی میں اپنی ذات کا انتقام کبھی نہیں لیا، مگر اس صورت میں کہ اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کو پامال کیا جائے تو اللہ کی خاطر انتقام لیتے تھے۔“
Top