Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 10
وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ
وَمَا : اور جو بھی اخْتَلَفْتُمْ : اختلاف کیا تم نے فِيْهِ : اس میں مِنْ شَيْءٍ : کسی چیز میں سے فَحُكْمُهٗٓ : تو اس کا فیصلہ کرنا اِلَى اللّٰهِ : طرف اللہ کے ہے ذٰلِكُمُ اللّٰهُ : یہ ہے اللہ رَبِّيْ : رب میرا عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ : اسی پر میں نے بھروسہ کیا وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف اُنِيْبُ : میں رجوع کرتا ہوں
اور وہ چیز جس میں تم نے اختلاف کیا، کوئی بھی چیز ہو تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے، وہی اللہ میرا رب ہے، اسی پر میں نے بھروسا کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔
10(1) وما اختلقتم فیہ من شیء …: یہ آیت اگرچہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے مگر یہ بات رسول اللہ ﷺ کی زبان سے کہلوائی گئی ہے، جیسا کہ سورة فاتحہ بندوں کی زبانی کہلوائی گئی ہ۔ (2) اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی جو صفات بیان ہوئی ہیں کہ وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کا مالک اور ولی و کار ساز ہے۔ موت و حیات اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، ان صفات سے خود بخود وہ بات ثابت ہو رہی ہے جو اس آیت میں فرمائی ہے کہ جب مالک وہ ہے تو حاکم بھی وہی ہے اور انسانوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کا فیصلہ بھی اسی کا کام ہے۔ وہ اختلاف عقیدہ میں ہو یا عمل میں، عبادات میں ہو یا معاملات میں، نیکی و بدی قرار دینے میں ہو یا حلال و حرام ٹھہرانے میں، غرض ہر بات میں فیصلہ اسی کا چلے گا۔ کسی اور کو یہ حق دینا کہ وہ شریعت سازی کرے یا حلال و حرام کا فیصلہ کرے درحقیقت اس کی عبادت اور اسے اللہ تعالیٰ کا شریک بنانا ہے، فرمایا :(ان الحکم الا للہ ، امر الا تعبدوا الا ایاہ) (یوسف : 30)”حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں، اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت مت کرو۔“ مزید دیکھیے سورة یوسف (67) ، انعام (57) ، مائدہ (44) ، کہف (26) اور سورة قصص (70، 88) رسول اللہ ﷺ ہر فیصلہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے سے اور اس کے حکم کے تحت کرتے، اس لئے آپ ﷺ کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر تنازع کا فیصلہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد کرنے کو ایمان کی شرط قرار دیا ہے، جیسا کہ فرمایا (فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللہ و الرسول ان کنتم تومنون بالل والیوم الاخر) (النسائ : 59)”پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے رسول اللہ اور رسول کی طرف لٹواؤ، اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو۔“ اور فرمایا :(فلا و ربک لایومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرماً مما قضیت و یسلموا تسلیماً (النسائ : 65) ”پس نہیں ! تیرے رب کی قسم ہے ! وہ مومن نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ تجھے اس میں فیصلہ کرنے والا مان لیں جو ان کے درمیان جھگڑا پڑجائے، پھر اپنے دلوں میں اس سے کوئی تنگی محسوس نہ کریں جو تو فیصلہ کرے اور تسلیم کرلیں، پوری طرح تسلیم کرنا۔“ (3) یہود و نصاریٰ نے اپنے احبارو رہبان کو حلال و حرام کے فیصلے کا اختیار دیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے اپنے احبارو رہبان کو ”ارباباً من دون اللہ“ بنا لیا۔ دیکھیے سورة توبہ (31) کی تفسیر۔ (4) یہود و نصاریٰ نے ایک مدت تک حلال و حرام قرار دینے کا اختیار آسمانی شریعت کیب جائے اپنے احبارو رہبان کو دیئے رکھا، آخر کار انہوں نے یہ تکلف بھی برطرف کیا اور پانی آسمانی کتاب یا احبارو رہبان کے بجائے جمہوریت کے نام پر یہ اختیار خود سنبھال لیا کہ عوام کی اکثریت جو فیصلہ کرے وہ حق ہے، ان کے منتخب نمائندے اپنی اکثریت کسی چیز کو حلال کہہ رہی ہے تو وہ حلال ہے، کچھ دن بعد اکثریت اگر حرام کہہ دے تو وہ حرام ہے۔ اب تو رات کی ہر قید جو طبیعتوں پر گراں تھی توڑ دی گئی، باہمی رضا سے زنا جائز قرار دیا گیا، رجم کو کالعدم کردیا گیا، قوم لوط کا عمل جائز قرار دیا گیا، قتل اور قطع اعضا میں قصاص ختم کردیا گیا اور سود حلال ٹھہرا۔ غرض جمہوریت کے نام پر ایک نئی شریعت ایجاد کی گئی جس کا رب، رسول اور شریعت سب کچھ انسان قرار پائے اس طرح بندوں کو مالک کی گدی پر بٹھا دیا گیا۔ (5) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا :(لتبعن سنن من کان قبلکم شبراً شبراً وذراعاً ذراعاً ، حتی لود خلوا حجر، ضب تبعتموھم ، قلنا یا رسول اللہ ! الیھود والنصاری ؟ قال فمن ؟) (بخاری، الاعتصام بالکتاب والسنۃ باب قول النبی ﷺ :”لتبعن سنن من کان قبلکم :“ 8320، عن ابی سعید الخدری ؓ ”تم ہر صورت اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر چل پڑو گے، جیسے بالشت بالشت کے ساتھ اور ہاتھ ہاتھ کے ساتھ برابر ہوتا ہے، حتیٰ کہ اگر وہ گوہ کے بل میں داخل ہوئے تو تم ان کی پیروی کرو گے۔“ ہم نے کہا :”یا رسول اللہ ! یہود و نصاریٰ کے طریقوں پر ؟“ آپ نے فرمایا :”تو اور کون ؟“ مسلمان خیر القرون میں اور اس کے کچھ عرصہ بعد تک صرف اور صرف قرآن و سنت پر کار بند رہے، یہ اسلام کی ترقی و عروج کا دور ہے، پھر بعض ائمہ کی تقلید شروع ہوئی اور ان کے نام پر ایس گروہ بندی اور فرقہ سازی ہوئی کہ بعض لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے امام کا قول اللہ اور اس کے رسول کے صریح خلاف ہے، اپنے امام کے قول پر اڑ گئے۔ احبارو رہبان کو ارباب بنانے کا نقشہ اہل کتاب کی طرح الہ اسلام میں بھی نظر آنے لگا، حتیٰ کہ یہ دین حق کئی مذہبوں میں تقسیم ہوگیا۔ ہر کسی کی مساجد الگ، عدالتیں اور قاضی الگ ہوگئے، امت کی وحدت جو صرف کتاب و سنت کو حاکم ماننے سے حاصل ہوتی تھی پارہ پارہ ہوگئی، مسلمانوں کی توانائیاں کفار کے ساتھ جہاد اور اس کی تیاری کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف صرف ہونے لگیں۔ یہی لوگ حاکم تھے یہی قاضی، اصلاح کی آوازیں اٹھتی رہیں، مگر بےسود، چناچہ کچھ مدت تک تو کتاب و سنت سے انحراف کے باوجود الگ الگ سلطنتوں کی شکل میں مسلمانوں کی حکمرانی کا سلسلہ چلتا رہا، پھر باہمی فساد اور ترک جہاد کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ چار ملکوں کے سوا تمام مسلم ممالک نصرانی یا کمیوسنٹ کفار کے قبضے میں چلے گئے، جنہوں نے جبراً ان ممالک میں اپنے کفر یہ احکام نافذ کردیے، پھر نہ کتاب و سنت کے احکام باقی رہے نہ ائمہ کے مذاہب۔ ہر جگہ کفار کا حکم چلنے لگا اور بنی اسرائیل کی طرح مسلمانوں پر بھی اللہ کے عذاب کا کوڑا کفار کی غلامی کی صورت میں برسنے لگا۔ مسلمان آزادی حاصل کرنے کے لئے مسلسل جدوجہد اور دعائیں کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کی آزادی کے لئے جدوجہد اور کفار کی باہمی جنگ عظیم کے نتیجے میں بہت سے مسلم ممالک کو آزادی ملی۔ اس کے بعد جہاد کے نتیجے میں بہت سے ممالک کمیونسٹوں کے تسلط سے بھی آزاد ہوئے، مگر تمام ممالک میں برسر اقتدار طبقے نے کفر کا وہی نظام حکومت برقرار رکھا جو کفار کے زمانے میں تھا ، جس میں فیصلہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مطابق نہیں بلکہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق ہوتا ہے۔ اس طرح مسلمانوں کے اہل کتاب کے نقش قدم پر چلنے کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ کا دین صرف نماز روزے وغیرہ کے لئے باقی رہ گیا، گھروں، باز اورں، عدالتوں اور حکومت کے ایوانوں سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو جلا وطن کر کے اس کی جگہ جمہوریت کے بت کی پرستش شروع کر ید گئی۔ البتہ بعض ملکوں میں یہ تکلف کیا گیا کہ اس کا نام اسلامی جمہوریت رکھ دیا گیا، حالانکہ اسلام میں حکم اللہ کا ہوتا ہے اور جمہوریت میں بندوں کا، دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں، کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے شربا کو سالامی شربا اور سود کو سالامی سود کہہ کر حلال کرلیا جائے، جیسا کہ یہ ظلم بھی اس سے پہلے مسلمان اپنی جانوں پر کرچکے ہیں۔ ان کے بہت سے برسر اقتدار طبقوں نے ان علماء کے اقوال کو اپنی مملکتوں میں نافذ کیا جنہوں نے صرف انگور اور کھجور کی شراب کو حرام قرار دے کر دوسرے تمام نشہ آور مشروبات پینے پر حد ختم کردی، خواہ ان سے نشہ بھی آجائے۔ جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی عظیم سلطنتیں شراب کے سمندر میں غرق ہوگئیں کہ حکمران بھی پیتے تھے اور رعایا بھی اور جائز سمجھ کر پیتے تھے۔ اسی طرح سود کی بہت سی قسموں کو جائز قرار دے کر اسلامی سود رائج ہونے کے نتیجے میں طمع و ہوس کے طوفان نے ہمدردی و ایثار کا سلسلہ ختم کردیا اور حرام ہوس زر نے مسلمانوں کو آخرت سے غافل کردیا۔ حقیقت یہ ہے ہ اب بھی دنیا اور آخرت دونوں میں مسلمانوں کی نجاتا سی میں ہے کہ وہ دوبارہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کی طرف واپس پلٹیں اور اپنی پوری زندگی میں اس کی اطاعت اختیار کریں۔ ان شاء اللہ وہ وقت آنے والا ہے جب دوبارہ خلافت علیم نہاج النبوۃ قائم ہوگی، جس میں اللہ کی زمین پر صرف اللہ کا حکم چلے گا۔ یہ رسول صادق ﷺ کی پیش گوئی ہے اور ہر صورت پوری ہوگی۔ ہمارا کام جدوجہد ہے، اللہ چاہے گا تو ہم اپنی آنکھوں سے وہ مبارک دن دیکھیں گے، ورنہ ہمارے بعد آنے والے اسے ضرور دیکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے ان بندوں میں شامل فرمائے جو قیامت تک دین حق قائم رکھنے کے لئے لڑتے رہیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لن یبرح ھذا الذین قائماً یقاتل علیہ عصابۃ من المسلمین حتی تقوم الساعۃ) (مسلم ، الامارۃ باب قولہ ﷺ :”لا تزال طائفۃ من امتی ظاھرین علی الحق…“:1922 عن جابر بن سمرۃ ؓ ”یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، مسلمانوں کی ایک جماعت اس پر لڑتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت قائم ہو۔“ (6) فحکمۃ الی اللہ : ہر جھگڑے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہونے میں شرعی احکام کا فیصلہ بھی شامل ہے، جیسا کہ اوپر گزرا اور یہ بھی کہ دنیا میں لوگوں کے درمیان جتنے جھگڑے ہیں ان کا واضح فیصلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا۔ دنیا میں کفار اپنے آپ کو حق پر کہتے رہیں، مگر وہاں انبیاء اور ان کے متبعین کا حق پر ہونا اور کفار کا باطل پر ہونا سب کے سامنے واضح ہو کر آجائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(قل اللھم فاطر السموت ولارض علم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فی ماکانوا فیہ یختلفون) (الزمر : 36) ”تو کہہ اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! ہر چھپی اور کھلی کو جاننے والے ! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔“ (7) ذلکم اللہ ربی : یعنی وہی اللہ جس کی چند صفات اوپر کی آیات میں بیان ہوئی، جنہیں تم بھی مانتے ہو، جو مختصراً یہ ہیں کہ وہ عزیز و حکیم ہے، علی وعظیم ہے، غفور و رحیم ہے، حقیقی ولی ہے، مردوں کو زندہ کرنے والا اور ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، تمام اختلافات کا فیصلہ کرنے والا ہے، وہی اللہ میرا رب ہے، ان میں سے ایک بھی صفت جب کسی اور میں پائی ہی نہیں جاتی تو میں کسی اور کو اپنا رب کیسے مان لوں ؟ (8) علیک توکلت“ (اسی پر میں نے بھروسہ کیا) فعل ماضی ہے اور ”والیہ انیب“ (اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں) فعل مضارع ہے، جس میں استمرار اور ہمیشگی پائی جاتی ہے۔ ”علیہ“ اور ”الیہ“ پہلے آنے سے قصر کا معنی پیدا ہوا، اس لئے ترجمہ ”اسی پر“ اور ”اسی کی طرف“ کیا گیا ہے۔ یعنی میں شروع سے اسی پر بھروسہ کرچکا اور اب ہر بات میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں، ہر مسئلے کا حکم اسی سے لیتا ہوں، ہر جھگڑے کا فیصلہ اسی سے کر واتا ہوں اور ہر گناہ پر اسی سے معافی مانگتا ہوں اور اسی کو حق سمجھتا ہوں۔
Top