Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 17
اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ
اَللّٰهُ الَّذِيْٓ : اللہ وہ ذات ہے اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ : جس نے نازل کی کتاب حق کے ساتھ وَالْمِيْزَانَ : اور میزان کو وَمَا يُدْرِيْكَ : اور کیا چیز بتائے تجھ کو لَعَلَّ السَّاعَةَ : شاید کہ قیامت قَرِيْبٌ : قریب ہی ہو
اللہ وہ ہے جس نے حق کے ساتھ یہ کتاب نازل کی اور میزان بھی، اور تجھے کون سی چیز آگاہ کرتی ہے، شاید کہ قیامت قریب ہو۔
(1) اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان :”الکتب“ میں الف لام جنس کا ہو تو مراد تمام روحانی کتابیں ہیں اور اگر عہد کا ہو تو مراد یہ کتاب یعنی قرآن مجید ہے۔ یعنی کیا جانتے بھی ہو کہ جس اللہ کے بارے میں تم جھگڑ رہے ہو وہ کون ہے اور اس کی صفات اور اس کے احکام کیسے معلوم ہوسکتے ہیں ؟ فرمایا اللہ وہی ہے جس نے یہ کتاب یعنی قرآن مجید حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے، اس کی ہر بات حق ہے، اس میں باطل کی آمیزش ہو ہی نہیں سکتی، جیسا کہ فرمایا :(لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ) (حم السجدۃ : 32)”اس کے پا باطل نہ اس کے آگے سے آتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے۔“ اور اسی نے میزان اتارا ہے جس کے ساتھ لوگ اپنے تمام معاملات میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کرسکیں۔”المیزان“ ستے مراد اکثر مفسرین نے عدل و انصاف لیا ہے، بعض نے اس سے مراد دین حق اور بعض نے جزا و سزا کا قانون لیا ہے۔ ان میں سے جو بھی مراد لیں بات ایک ہی ہے اور اس میزان سے مراد اللہ کے دین اور اس کی شریعت پر مشتمل یہ کتاب ہی ہے جو خلاق و مخلوق کے درمیان معاملات اور مخلوق کے باہمی معاملات اور تمام تنازعات کے لئے میزان ہے، جو ہر بات ترازو کی طرح تول کر صحیح یا غلط اور حق باطل کا فیصلہ کر یدتی ہے۔ اوپر فرمایا تھا :(وامرت لاعدل بینکم) (الشوری : 15) (اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں) اور اس آیت میں بتادیا کہ اس کتاب پاک کی صورت میں میزان آگئی ہے، جس کے ساتھ وہ عدل قائم کیا جائے گا۔ یہ کتاب دوسرے معاملات کی طرح پہلی کتابوں کے لئے بھی میزان اور ان کی نگران ہے کہ ان میں کون سی باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور کون سی ملا دی گئی ہیں، جیسا کہ فرمایا :(وانزلنا الیک الکتب بالحق مصدقاً لما بین یدیہ من الکتب و مھیمناً علیہ) (المائدۃ : 38)”اور ہم نے تیری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ بھیجی، اس حال میں کہ اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو کتابوں میں سے اس سے پہلے ہے اور اس پر محافظ ہے۔“ (2) یہاں ایک سوال ہے کہ آیت میں ”الکتب“ اور ”المیزان“ کے درمیان واؤ عطف ہے جو مغایرت کے لئے ہوتی ہے، جس سے ظاہر ہے کہ کتاب اور میزان الگ الگ چیزیں ہیں، اب اگر میزان سے مراد کتاب ہی ہو تو مغایرت ختم ہوجاتی ہے، اسی طرح اگر میزان سے مراد عدل و انصاف لیں تب بھی کتاب اور میزان کے درمیان مغایرت نہیں رہتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تمام کتابیں عین عدل و انصاف ہیں ؟ جو اب اس کا یہ ہے کہ ایک ہی چیز کا ذکر جب اس کی مختلف صفات کے ساتھ کیا جائے تو اس کا عطف خود اس پر ہوسکتا ہے، کیونکہ صفات کے تغایر کو ذوات کے تغایر کی طرح قرار دے لیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اس کی مثالوں میں سے ایک مثال یہ ہے :(سبح اسم ربک الاعلی الذی خلق فسوی والذی قدر فھدی والذی اخرج المرعی) (الاعلی : 1 تا 13) ان آیات میں ”الذی“ (وہ ذات) کو عطف کے ساتھ الگ الگ بیان کیا گیا ہے، حالانکہ وہ ایک ہی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہر جملے میں وہ الگ الگ صفت کے ساتھ مذکور ہے۔ کلام عرب میں سے اس کی مثال یہ شعر ہے۔ الی الملک الفرم وابن الھمام ولیت الکتیبۃ فی المردحم (اضواء البیان) (3) وما یدریک لعل الساعۃ قریب : اور تجھے کیا چیز آگاہ کرتی ہے شاید کہ وہ قیامت بالکل نزدیک ہو اور جو سانس تم لے رہی ہو یہی آخری ہو، اسلئے اس فکر میں مت پڑو کہ وہ کب ہے، بلکہ یہ فکر کرو کہ تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے۔ انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ بادیہ والوں میں سے ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا :(یا رسول اللہ ! متی الساعۃ قائمۃ ؟ قال ویلک وما اعددت لھا ؟ قال ما اعددت لھا الا انی احب اللہ و رسولہ، قال انک مع من احبیت ففلنا و نحن کذلک ؟ قال نعم ، ففرحنا یومئذ فرحاً شدیداً فمر غلام للمغیرۃ و کان من افرانی فقال ان اخر ھذا فلن یدرکہ الھرم حتی تقوم الساعۃ بخاری، الادب، باب ماجائ، فی قول الرجل وبلک، 6168)”یا رسول اللہ چ قیامت کب قائم ہونے والی ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :”افسوس تم پر ! تم نے اس کے لئے تیاری کیا کی ہے ؟“ اس نے کہا :”میں نے اس کے لئے اس کے سوا کوئی تیاری نہیں کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ ‘ آپ ﷺ نے فرمایا : ”تم یقیناً اس کے ساتھ ہوگے جس سے تمہیں محبت ہوگی۔“ تو ہم نے کہا :”اور ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :”ہاں !“ تو ہم اس دن بہت زیادہ خوش ہوئے۔ مغیرہ کا ایک غلام وہاں سے گزرا، وہ میرا ہم عمر تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا :”اگر اس کی عمر دراز ہوئی تو اسے سخت بڑھاپا آنے سے پہلے پہلے قیامت قائم ہوجائے گی۔“ مراد اس وقت موجود لوگوں کی قیامت ہے۔ حدیث میں قابل توجہ بات یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ہر آدمی کی موت کو اس کے لئے قیامت قرار دیا، کیونکہ اس کے ساتھ اس کے لئے عمل کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ (4) یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ ”الساعۃ“ مونث ہے، اس کی خبر ”قریب“ مذکر ہے، حالانکہ دونوں میں مطابقت ہونی چاہیے ؟ جواب کے لئے دیکھیے سورة اعراف کی آیت (56) :(ان رحمت اللہ قریب من المحسنین) کی تفسیر۔
Top