Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 24
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
اَمْ يَقُوْلُوْنَ : یا وہ کہتے ہیں افْتَرٰى : اس نے گھڑ لیا عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر كَذِبًا : جھوٹ فَاِنْ يَّشَاِ اللّٰهُ : پھر اگر چاہتا اللہ يَخْتِمْ : مہر لگا دیتا عَلٰي قَلْبِكَ : تیرے دل پر وَيَمْحُ اللّٰهُ : اور مٹا دیتا ہے اللہ الْبَاطِلَ : باطل کو وَيُحِقُّ الْحَقَّ : اور حق کردکھاتا ہے حق کو بِكَلِمٰتِهٖ : اپنے کلمات کے ساتھ اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے، سو اگر اللہ چاہے تو تیرے دل پر مہر کر دے اور اللہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنی باتوں کے ساتھ ثابت کردیتا ہے، یقینا وہ سینوں کی بات کو خوب جاننے والا ہے۔
(1) ام یقولون افتری علی اللہ کذباً :”ام“ کے لفظ سے پہلے ایک جملہ ظاہر یا مقدر ہوتا ہے جو ہمزہ استفہام سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرنے کے بعد کہ تمہیں دین کی دعوت دینے سے مقصود سراسر تمہارا فائدہ اور تمہاری نجات ہے، اس میں تم سے میری کوئی ذاتی غرض نہیں، نہ ہی میں اس پر تم سے کسی مزدوری کا سوال کرتا ہوں۔ ہاں یہ ضرور کہتا ہوں کہ کم از کم رشتہ داری کی وجہ سے میرا دوستی کا حق تو ادا کرو۔ اس سے آگے اس مفہوم کی عبارت مقدر مانی جائے گی کہ آیا وہ یہ دعوت قبول کرتے ہوئے آپ پر ایمان لاتے ہیں ”ام یقولون افتری“ یا ضد اور عناد پر قائم رہ کر یہی بات کہے جاتے ہیں کہ اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے۔ (2) فان یشاء اللہ یختم علی قلیک : مفسرین نے اس کی تفسیر کئی طرح سے کی ہے، زیادہ واضح دو تفسیریں یہاں درج کی جاتی ہیں۔ ابن کثیر رحمتہ اللہ نے فرمایا :”اگر تو نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہو، جیسا کہ یہ جاہل کہہ رہے ہیں تو اگر وہ چاہے تو ”یختم علی قلیک“ وہ تیرے دل پر مہر لگا دے اور جتنا قرآن تجھے عطا کیا ہے وہ تجھ سے سلب کرلے، جیسا کہ اس کا ارشاد ہے :(ولو تقول علینا بعض الا قاویل لاخذنا منہ بالیمین ثم لقطعنا منہ الوتین فما منکم من احد عنہ حجرین) (الحاقہ :33 تا 38)”اور اگر وہ ہم پر کوئی بات بنا کر لگا دیتا تو یقینا ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔ پھر یقینا ہم اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے۔ پھر تم میں سے کوئی بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔“ یعنی ہم اس سے شدید ترین انتقام لیں اور کوئی شخص اسے بچا نہ سکے۔ (ابن کثیر) مزید تفصیل سورة حاقہ کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ مفسر قاسمی نے فرمایا :”یہ قرآنی آیات کی تفسیر قرآن کی آیات کے ساتھ ہے، جہاں ممکن ہو یہ تفسیر سب سے بہتر ہتوی ہے، کیونکہ قرآنی آیات ایک دوسری کی تفسیر کرتی ہیں۔ اس مفہوم کے مطابق آیت کا مآل جیسا کہ ابو السعود نے وضاحت فرمائی کفار کی بات کی تردید ہے، یعنی اگر آپ ﷺ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑتے تو اللہ آپ کو ہر حال میں اس سے روک دیتا اور آپ کے دل پر ایسی مہر لگاتا کہ نہ آپ کی زبان پر وحی کا کوئی لفظ آتا اور نہ آپ کے دل میں اس کا کوئی مفہوم آتا، جب ایسا نہیں ہوا بلکہ وحی تواتر کے ساتھ جاری رہی تو ثابت ہوگیا کہ وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔“ دوسری تفسیر مفسر شہاب کے الفاظ میں یہ ہے :”اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ چاہے تو تیرے دل پر مہر لگا دے ، جیسے اس نے ان (بہتان لگانے والے کافروں) کے لدوں پر مہر لگا دی ہے۔ اس میں آپ ﷺ کو تسلی دلائی ہے اور آپ پر اپنا احسان و اکرام یاد دلایا ہے (کہ اس نے آپ کے دل پر مہر نہیں لگائی) تاکہ آپ اس کی وجہ سے شکر ادا کریں اور ان لوگوں کے حال پر ترس کھائیں جن کے دل پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی اور وہ اپنے رب کے غضب کے حق دار بن گئے۔ اگر ایسا نہ ہوتا وہ کبھی یہ جرأت نہ کرتے کہ آپ پر یہ بہتان باندھیں کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اگر ان پر گمراہی کی مہر نہ لگ گئی ہوتی تو وہ یہ محال بات کہنے کی جرأت نہ کرتے۔“ (منقول از قاسمی) (3) ویمح اللہ الباطل …:”یمح“ اصل میں ”یمحو“ ہے۔ اس کا عطف ”یختم“ پر نہیں اور نہ ہی حالت جزم میں ہونے کی وجہ سے اس کی ”واؤ“ گری ہے، بلکہ یہ نیا جملہ ہے اور رفعی حا لات میں ہونے کی وجہ سے ”واؤ“ اپنی جگہ قائم ہے۔ صحابہ کرام ؓ کے رسم الخط میں یہاں ”واؤ“ نہیں لکھی گئی، کیونکہ بعض مقامات پر پڑھنے میں جو حروف نہیں آتے تھے انہوں نے وہ لکھنے میں بھی حذف کردیئے ہیں، جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کی آیت (11): (ویدع الانسان بالشر دعآء ہ بالخیر) اور سورة علق کی آیت (18) (سندع الربانیۃ) میں ”واؤ“ نہیں لکھی گیئ۔ مسلمانوں نے بعد میں قرآن مجید کے لئے اسی رسم الخط کو محفوظ رکھا۔ بعض اہل علم نے ”یمح“ کی واؤ حذف کرنے میں یہ نکتہ نکالا ہے کہ باطل کو مٹانے اور محو کرنے میں مبالغے کے اظہار کے لئے ”یمحو“ کی ”واؤ“ کو بھی محو کردیا ہے۔ (4) یعنی اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ وہ باطل کو مٹاتا ہے اور حق کو اپنے کلمات کے ساتھ ثابت کردیتا ہے، تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ اللہ پر جھوٹ گھڑیں اور اللہ تعالیٰ اسے نہ مٹائے، بلکہ آپ کو ہر قدم پر اپنی فتح و نصتر کے ساتھ نوازتا جائے۔ یہ دلیل ہے کہ آپ حق لے کر آئے ہیں اور وہ شخص بدترین بہتان باز ہے جو کہتا ہے کہ آپ نے اللہ پر جھوٹ گھڑا ہے۔ (5) انہ علیم بذات الصدور : یعنی اسے سینوں میں چھپی ہوئی نیتوں اور ارادوں کا خوب علم ہے، وہ اپنی رسالت کے ساتھ کبھی بھی بدطینت و جھوٹ گھڑنے والوں کو نہیں نوازتا، جیسا کہ فرمایا :(اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ) (الانعام : 123)”اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔“ اس نے اپنے کامل علم ہی کی بنا پر آپ کو اس منصب کے لئے منتخب فرمایا ہے۔
Top