Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 26
وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ
وَيَسْتَجِيْبُ : اور جواب دیتا ہے الَّذِيْنَ : ان لوگوں کو اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے وَيَزِيْدُهُمْ : اور زیادہ دیتا ہے ان کو مِّنْ فَضْلِهٖ : اپنے فضل سے وَالْكٰفِرُوْنَ : اور کافر لوگ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ شَدِيْدٌ : عذاب شدید
اور ان لوگوں کی دعا قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور انھیں اپنے فضل سے زیادہ دیتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے۔
(1) ویستجیب الذین امنوا و عملوا الصلحت : اجابت کا معنی قبول کرنا ہے اور استجابت میں ”سین“ مبالغے کے لئے ہے۔ یہ لفظ کسی حکم پر بہت جلد عمل کرنے یا کسی دعوت پر بہت جلد ی لبیک کہنے یا کسی دعا کو بہت جلدی قبول کرنے کیلئے آتا ہے۔ (ابن عاشور) یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی دعا بہت جلد اور خوشی سے قبول فرماتا ہے جو ایمان اور عمل صالح سے متصف ہوتے ہیں۔ (دیکھیے بقرہ : 186، 218) ان معنوں میں کفار کی دعا قبول ہوتی ہی نہیں ، جیسا کہ فرمایا :(وما دعآء الکفرین الا فی ضلل) (الرعد : 13)”اور نہیں ہے کافروں کا پکارنا مگر سراسر بےسود۔“ ہاں ، رسی دراز کرنے کے لئے اور حجت تمام کرنے کے لئے کفار کی بھی دعائیں قبول ہوتی ہیں، مگر وہ استجابت نہیں استدراج ہے اور ناراضی کی علامت ہے، جیسا کہ ابلیس نے آدم ؑ اور ان کی اولاد کو گمراہ کرنے کے لئے مہلت ماگنی تو اسے دے دی گئی۔ (2) ویریدھم من فضلہ : اس میں دو چیزیں شامل ہیں، ایک یہ کہ صالح اعمال والے مومن اپنی دعا اور عمل صالح سے جو امید رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں وہ بھی دیتا ہے اور ان کی امید سے کہیں زیادہ بھی عطا فرماتا ہے۔ اسی طرح ان کا ہر عمل قبول بھی کرتا ہے اور اسے دس گنا سے سات سو گنا تک یا بلا حساب تک بڑھا بھی دیتا ہے۔ دوسری یہ کہ انھیں اپنے فضل سے مزید وہ کچھ بھی عطا کرتا ہے جس کی درخواست انہوں نے نہیں کی ہوتی، کیونکہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اور ان کی ضروریات سے پوری طرح آگاہ ہے۔ (3) والکفرون لھم عذاب شدید : یہ قرآن مجید عا عام طریقہ ہے کہ ترغیب کے ساتھ ترہیب بھی ہوتی ہے۔ یعنی جو لوگ توبہ کے بجائے کفر پر اصرار کرتے اور اسی حالت میں مرجاتے ہیں ان کے لئے شدید عذاب ہے۔
Top