Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 28
وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ
وَهُوَ الَّذِيْ : اور وہ اللہ وہ ذات ہے يُنَزِّلُ : جو اتارتا ہے الْغَيْثَ : بارش کو مِنْۢ بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ قَنَطُوْا : وہ مایوس ہوگئے وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ : اور پھیلا دیتا ہے اپنی رحمت کو وَهُوَ : اور وہ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ : کارساز ہے۔ دوست ہے، تعریف والا ہے
اور وہی ہے جو بارش برساتا ہے، اس کے بعد کہ وہ ناامید ہوچکے ہوتے ہیں اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے اور وہی مدد کرنے والا ہے، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔
(1) وھو الذی ینزل الغیث من بعد ما قنطوا :”الغیث“ وہ بارش جو خشک سالی کے بعد آئے کیونکہ اس کے ذریعے سے لاچار اور بےبس انسانوں اور جانوروں کی مدد ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا :(ثم یاتی من بعد ذلک عامر فیہ یغاث الناس) (یوسف : 79)”پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں پر بارش ہوگی۔“ یہ بیان کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کی ضرورت سے زیادہ نہیں دیتا، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ان کے تقاضے کے مطابق رزق میں اضافہ ان کی سرکشیا ور نظام عالم کی خرابی کا باعث ہے، یہ ذکر فرمایا کہ اگر انہیں بارش کی ضرورت ہو، جس پر تمام جان داروں کی زندگی کا دار و مدار ہے، خواہ انسان ہوں یا حیوان، چرند پرند ہوں یا درندے یا حشرات الارض ہوں تو وہ انہیں اپنی رحمت سے ضرور نوازتا ہے۔ چناچہ فرمایا ، اور وہی ہے جو بارش برساتا ہے۔ (2) من بعد ما قنطوا :”قنوط“ کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حم السجدہ کی آیت (49) کی تفسیر۔ اس کے بعد کہ وہ ناامید ہوچکے ہوتے ہیں اور اس نا امیدی کے آثار ان کے چہروں پر ظاہر ہوچکے ہوتے ہیں، یعنی وہ ایک مدت کی قحط سالی کی وجہ سے بارش برسنے سے ناامید ہوچکے ہوتے ہیں۔ اس آیت میں ماہ پرستوں کا رد بھی ہے جن کا کہنا ہے کہ دنیا میں اسباب کے مطابق سب کچھ خود بخود ہو رہا ہے، نہ اس کائنات کا کوئی پیدا کرنے والا ہے اور نہ کوئی اسے اپنی مرضی کے مطابق چلانے والا ہے۔ رد اس طرح ہے کہ ان لوگوں کے کہنے کے مطابق طبعی طور پر سورج کی تپش کے ساتھ سمندر سے بخارات اٹھتے ہیں جو بادلوں کی صورت اختیار کرتے اور زمین پر برستے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر ایک زمین، ایک سمندر، ایک سورج اور تمام اسباب یکساں ہونے کے باوجود ہر جگہ ایک جیسی بارش کیوں نہیں ہوتی ؟ یقینا یہ سب کچھ ان تمام چیزوں کے مالک کے اختیار میں ہے وہ جہاں چاہتا ہے سالہا سال تک قحط اور خشک سالی مسلط کردیتا ہے، پھر جب چاہتا ہے دوبارہ بارش کا سلسلہ شروع فرما دیتا ہے۔ (3) ویشر رحمتہ : یعنی بارش کی صورت میں اپنی رحمت میدانوں، پہاڑوں، جنگلوں اور سمندروں میں ہر جگہ پھیلا دیتا ہے، ہوا کے کاندھے پر سوار اتنے وزنی بادلوں سے زمین کو بھر دینے والی بارش برساتا ہے، جنہیں پوری مخلوق بھی اٹھانا چاہے تو نہ اٹھا سکے اور سب مل کر اس زمین پر چھڑکاؤ ہی کرنا چاہیں تو نہ کرسکیں۔ پھر ہر طرف ندی نالے، تالاب، سبزہ، پودے، درخت، کھیت، مینڈک، جھینگر، حشرات الارض اور دوسرے جاندارپ ھیل جاتے ہیں۔ اس بارش کے ساتھ اتنی سخت زمین سے، جو کدالوں کے ساتھ کھودنی مشکل ہوتی ہے، ریشم سے نرم کونپلیں نکال دیتا ہے اور اس بارش کے ساتھ درختوں کے سخت تنوں سے ، جنہیں تراشنے والے اوزار مشکل سے تراش سکیں، پرندوں کی زبانوں سے بھی نازک شگوفے نکال دیتا ہے، پھر سک قدر جاہل اور فریب خوردہ ہیں وہ لوگ جو مردوں کے قبروں سے زندہ ہونے کو نہیں مانتے۔ (بقاعی) (4) وھو الولی الحمید : یعنی کائنات کے تمام معاملات کا متولی اور ذمہ دار وہی ہے اور ہر خوبی کا مالک بھی وہی ہے۔
Top