Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 3
كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
كَذٰلِكَ : اسی طرح يُوْحِيْٓ اِلَيْكَ : وحی کرتا رہا ہے آپ کی طرف وَاِلَى : اور طرف الَّذِيْنَ : ان لوگوں کے مِنْ قَبْلِكَ : آپ سے قبل اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اللہ تعالیٰ غالب، حکمت والا
اسی طرح وحی کرتا ہے تیری طرف اور ان لوگوں کی طرف جو تجھ سے پہلے تھے، وہ اللہ جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
(1) کذلک یوحی الیک :”کذلک“ (اسی طرح) سے مراد ایک تو وہ مضامین و معانی ہیں جو اس قرآن یا اس سورت میں ہیں، یعنی آپ کی طرف توحید، آخرت، نبوت اور دوسرے عقائد و اعمال اور واقعات پر مشتمل جو وحی کی گئی ہے۔ یہ کوئی نرالی نہیں کہ کفار کو اس پر تعجب ہو رہا ہے، بلکہ ایسے ہی مضامین کی وحی اللہ تعالیٰ آپ کی طرف اور آپ سے پہلے پیغمبروں کی طرف کرتا چلا آیا ہے۔ بعض وقتی احکام میں فرق ہوسکتا ہے، مگر اصل دعوت جس کے لئے آپ کو اور پہلے تمام پیغمبروں کو مبعوث کیا گیا ایک ہی ہے، جیسا کہ فرمایا :(وما ارسلنا من قبلک من رسول الا لوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون) (الانبیائ : 25َ)”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(الانبیاء اخوہ لعلات، امھاتھم شتی و دینھم واحد) (بخاری، احادیث الانبیائ، باب قول اللہ تعالیٰٓ :(واذکر فی الکتاب مریم…):3773)”انبیاء علاتی (مختلف ماؤں سے پیدا ہونے والے) بھائی ہیں، ان کی مائیں الگ الگ ہیں اور ان کا دین ایک ہے۔“ اور ”کذلک“ (اسی طرح) سے مراد وحی کرنے کا طریقہ بھی ہے، یعنی جس طرح یہ سورت یا یہ کتاب آپ کی طرف وحی کی جا رہی ہے، اللہ تعالیٰ اسی طرح آپ سے پہلے پیغمبروں کی طسرف بھی وحی کرتا چلا آیا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اپنی رسالت کے لئے چن لیتا ہے، پھر اس کے ساتھ وحی کی ان صورتوں میں سے کسی صورت کے ساتھ کلام کرتا ہے جو اس نے اس سورت کے آخر میں کسی بھی بشر کے ساتھ کلام کرنے کی بیان فرمائی ہیں۔ (دیکھیے شوریٰ : 51، 52) کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی کیوں نازل نہیں کی، یا مجھ سے کلام کیوں نہیں فرمایا۔ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ حارث بن ہشام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا :”یا رسول اللہ ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے ؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(احیاناً یاتینی مثل صلصلۃ الجرس وھو اشدہ علی فیفصم عنی وقد و عیت عنہ ما قال، واحیاناً یتمسل لی الملک رجلاً فیکلمنی فاعی مایقول فالت عائشۃ ؓ ولقد رائیۃ ینزل علیہ الوحی فی الیوم الشدید البرد، فیقصم عنہ و ان جبینہ لیتفصد عرقاً) (بخاری) بدء الوحی الی الرسول ﷺ (باب : 2)”میرے پاس وحی کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح آتی ہے جو مجھ پر وحی کی سب سے زیادہ سخت صورت ہے، پھر وہ مجھ سے اس حال میں ختم ہوتی ہے کہ جو کچھ مجھے کہا ہے وہ میں یاد کرچکا ہوتا ہوں اور کبھی فرشتہ ایک آدمی کی شکل میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے ، تو جو کچھ وہ کہتا ہے میں یاد کرلیتا ہوں۔“ عائشہ ؓ نے فرمایا :”میں نے آپ کو سخت سردی والے دن میں آپ پر وحی اترنے کی حالت میں دیکھا کہ وہ کیفیت آپ سے ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی پسینے سے ٹپک رہی ہوتی تھی۔“ (2) والی الذین من قبلک : اس تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نساء کی آیات (163 تا 165)۔ (3) اللہ العزیز الحکیم : سورة نساء کی آیات، جن کا حوالہ اوپر دیا گیا ہے، ان میں پیغمبروں کی طرف وحی کا ذکر فرما کر بات کا خاتمہ اپنے ہمیشہ سے عزیز و حکیم ہونے کے ساتھ کیا، چناچہ فرمایا :(وکان اللہ عزیزاً حکیماً) (النسائ : 165)”اور اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ قرآن مجید میں جہاں جہاں وحی نازل کرنے کا ذکر ہے اس کے بعد مقام کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ کے بعض اسماء وصفات کا ذکر بھی ہے۔ کتاب اللہ نازل کرنے کے ساتھ عزیز و حکیم کے ذکر کی مناسبت کے لئے دیکھیے سورة زمر کی پہلی آیت کی تفسیر، ساتھ سورة مومن کی پہلی آیت کی تفسیر بھی ملاحظہ فرمائیں۔
Top