Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 30
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ
وَمَآ اَصَابَكُمْ : اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو مِّنْ : کوئی مُّصِيْبَةٍ : مصیبت فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ : پس بوجہ اس کے جو کمائی کی تمہارے ہاتھوں نے وَيَعْفُوْا : اور وہ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
اور جو بھی تمہیں کوئی مصیبت پہنچی تو وہ اس کی وجہ سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور وہ بہت سی چیزوں سے در گزر کرجاتا ہے۔
(1) وما اصابکم من نصیبہ فما کسبت ایدیکم :: اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور نشانیوں کا تذکرہ ہو رہا ہے اس سلسلے میں لوگوں کے بارش سے ناامید ہونے کے بعد بارش برسانے کا ذکر ہوا ہے۔ اس پر سوال ہوسکتا تھا ہ اللہ تعالیٰ اس قدر مہربان ہے تو وہ بارش روک کیوں دیتا ہے ؟ فرمایا، تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے وہ تمہاری کمائی کا نتیجہ ہے۔ وہ گناہ بھی ہوسکتے ہیں اور اونچی شان والے حضرات پر اللہ تعالیٰ کے جس قدر انعامات ہیں ان کا حق ادا کرنے میں کسی طرح کی کمی تھی۔ اس لئے پیغمبر بھی اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ::(واللہ انی لاستغفر اللہ واتوب الیہ فی الیوم اکثر من سبعین مرۃ) (بخاری، الدعوات، باب استغفار النبی ﷺ فی ال یوم واللیلۃ :6308)”اللہ کی قسم ! میں دن میں ستر (70) بارے زیادہ اللہ سے استغفار اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔“ انسان پر آنے والی ان مصیبتوں کا انجام مومن و کافر کے حق میں ایک جیسا نہیں ہوتا، بلکہ وہ کافر کے لئے عذاب ہوتی ہیں، جیسا کہ فرمایا :(ولنذیفنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون) (السجدۃ : 21)”اور یقیناً ہم انہیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔“ اور مومن کے ل ئے گناہوں کی معافی، اجر اور درجات کی بلندی کا باعث بنتی ہیں۔ ابو سعید خدری اور ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(مایصیب المسلم من نصب، ولا وصب ولا ھم ، ولا حزن، ولا ادی، ولا عم ، حتی الشوکۃ یشاکھا، الا کفر اللہ بھما من خطاباہ) (بخاری، المضری، باب ما جاء فی کفارۃ المرض :05631، 5636)”مومن کو جو بھی دکھ یا چوٹ یا فکر یا حزن یا تکلیف یا غم پہنچتا ہے ، حتی کہ کانٹا بھی جو اسے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اس کے کچھ گناہ دور فرما دیتا ہے۔“ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ بچے اور دیوانے پر آنے والی مصیبتیں بھی کیا ان کے اعمال کا نتیجہ ہیں ؟ جواب یہ ہے کہ آیت میں خطاب ان لوگوں سے ہے جو مکلف ہیں، بچے اور دیوانے مکلف ہی نہیں، نہ ان پر آنے والی مصیبتیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آتی ہیں، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت آتی ہیں، جسے وہی بہتر جانتا ہے۔ بیماری اور مصیبت کے اجر اور درجات کی بلندی کا باعث بننے کی دلیل قرآن مجید کی آیات، مثلاً سورة توبہ کی آیت (120) کے علاوہ بہت سی احادیث بھی ہیں۔ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا، آپ ﷺ بخار میں تپ رہے تھے۔ میں نے کہا :”یا رسول اللہ ! آپ کو بہت سخت بخار ہوتا ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا :(اجل، انی اوعک کما یوعک رجلان منکم ، قلت ذلک بان لک اجرین ؟ قال اجل ذلک کذلک ، مامن مسلم بصییہ اذی، شوکۃ فما فوقھا الا کفر اللہ بھا سیاتہ، کما تحط الشجرۃ ورقھا) (بخاری، المضریٰ ، باب اشد الناس، بلاء الانبیاء ثم الامثل فالا مثل :5678)”ہاں، مجھے اتنا بخار ہوتا ہے جتنا تم میں سے دو آدمیوں کو ہوتا ہے۔“ میں نے کہا :”یہ اس لئے کہ آپ کو دو اجر ملتے ہیں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :”ہاں ! یہی بات ہے، جس مسلم کو بھی کوئی تکلیف پہنچے، کاٹنا ہو یا اس سے اوپر، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اس کی برائیاں گرا دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتے گرا دیتا ہے۔“ (2) ویعفوا عن کثیر : اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نحل (61) اور سورة فاطر (45) کی تفسیر۔
Top