Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 35
وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ
وَّيَعْلَمَ الَّذِيْنَ : اور جان لیں گے وہ لوگ يُجَادِلُوْنَ : جو جھگڑتے ہیں فِيْٓ اٰيٰتِنَا : ہماری آیات میں ۭ مَا : نہیں لَهُمْ : ان کے لیے مِّنْ مَّحِيْصٍ : کوئی بچنے کی جگہ۔ جائے پناہ
اور (تاکہ) وہ لوگ جو ہماری آیات میں جھگڑتے ہیں، جان لیں کہ ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں۔
ویعلم الذین یجادلون فی ایتنا …: یہاں سوال ہے کہ ”یعلم“ پر نصب کیوں ہے اور ”واؤ“ کے ساتھ عطف کس پر ڈالا گیا ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس جملے کا عطف ایک محذوف جملے پر ہے، جس میں اس بات کی علت بیان کی گئی ہے کہ ہوائیں جہازوں کے لئے کبھی موافق، کبھی شدید ترین مخالف اور کبھی ساکن کیوں ہوتی ہیں اور ”یعلم“ پر نصب ”لام کی“ کی وجہ سے آیا ہے جس کے بعد ”ان“ ناصبہ مقدر ہوتا ہے۔ گویا پوری عبارت اس طرح ہے :”اللہ فعل ذلک لیعتبر المومنون و لیعلم الذین یجادلون فی آیاتنا“ یعنی اللہ تعالیٰ نے کشتیوں اور ہواؤں کا یہ معاملہ اس لئے ذکر فرمایا ہے تاکہ مومن اس سے عبرت حاصل کریں اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلانے کے لئے جھگڑا کرتے ہیں وہ جان لیں کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے بھاگ کر جانے کی کوئی جگہ نہیں۔ ہوسکتا ہے یہ جاننے کے بعد وہ اللہ کی آیات پر ایمان لے آئیں۔ بعض مفسرین نے محذوف جملے کے لئے اس سے مختلف الفاظ بھی ذکر فرمائے ہیں، مقصد سب کا یہی ہے کہ ”ویعلم الذین یجادلون فی ایتنا“ میں گزشتہ چیزوں کی علت بیان ہوئی ہے۔ لعت والے جملے کے حذف کی قرآن مجید میں کئی مثالیں ملتی ہیں، جیسے فرمایا :(ولنجعلہ ایۃ للناس) (مریم : 21)”اور تاکہ ہم اسے لوگوں کے لئے بہت بڑی نشانی بنائیں۔ ”اور جیسے فرمایا :(وخلق اللہ السموت والارض بالحق و لتجری کل نفس بما کسبت) (الجائبۃ : 22)”اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلا دیا جائے جو اس نے کمایا۔“
Top