Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 36
فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ
فَمَآ اُوْتِيْتُمْ : پس جو بھی دیے گئے تم مِّنْ شَيْءٍ : کوئی چیز فَمَتَاعُ : تو سامان ہے الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیا کی زندگی کا وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ : اور جو اللہ کے پاس ہے خَيْرٌ : بہتر ہے وَّاَبْقٰى : اور زیادہ باقی رہنے والا ہے لِلَّذِيْنَ : ان لوگوں کے لیے اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَعَلٰي رَبِّهِمْ : اور اپنے رب پر يَتَوَكَّلُوْنَ : وہ توکل کرتے ہیں
پس تمہیں جو بھی چیز دی گئی ہے وہ دنیا کی زندگی کا معمولی سامان ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور صرف اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔
(1) فما اوتیتم من شیء فمتاع الحیوۃ الدنیا :”متاع“ وہ چیز جس سے فائدہ اٹھایا جائے، برتنے کی چیز جو جلدی ختم ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور قدرت و سلطنت کے دلائل مثلاً بندوں کے لئے بارش برسانے انھیں حسب حکمت رزق عطا فرمانے، آسمان و زمین کو پیدا کرنے، ان میں بیشمار جان داروں کو پھیلانے، سمندروں میں پہاڑوں جیسے بلند جہازوں کے چلنے اور انھیں پیش آنے والے احوال ذکر کرنے کے بعد دنیا کی زندگی کے ساز و سامان کے بےوقعت اور عارضی ہونے کا ذکر فرمایا، کیونکہ دنیا کی زیب و زینت ہی انسان کو دلائل پر غور و فکر کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ جب وہ اس کی حقیقت سے آگاہ ہوگا اور وہ اس کی نگاہ میں حقیر ہوگی تو اسے آخرت کی طرف توجہ کا موقع ملے گا اور وہ دلائل پر غور بھی کرے گا۔ (2) دنیا میں انسان کو جو چیز بھی دی گی ہے، وہ خواہ کتنی زیادہ ہو یا کتنی قیمتی ہو، اس میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس پر انسان پھول جائے اور آخرت سے بےپروا ہوجائے، کیونکہ ایک تو وہ بہت تھوڑی مدت کے لئے اس کے استعملا میں آتی ہے، پھر وہ سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھ یہاں سے رخصت ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ملکیت میں خواہ کتنی لمبی چوڑی جائیداد یا دولت ہو عملاً اس کے استعمال میں اس کا معمولی سا حصہ ہی آتا ہے۔ اے انسان تیرے لئے اس لمبی چوڑی جائیداد میں سے وہی ہے (ما اکلت فافنیت او لبست فابلیت) (مسلم، الزھد و الرقائق، باب :2958)”جو تو نے کھالیا اور فنا کردیا یا جو مزید دیکھیے سورة رعد (26)۔ (3) وما عند اللہ خیر وابقی : جو دولت و نعمت اللہ کے پاس ہے وہ ہر لحاظ سے دنیا کے ساز و سامان سے بہتر بھی ہے اور پائیدار اور لازوال بھی۔ (4) للذین امنواو علی ربھم یتوکلون : یہاں سے ان لوگوں کی صفات بیان فرمائیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں آخرت میں ملنے والی نعمتوں کے حق دار ہوں گے۔ ان میں سب سے پہلی صفت ”امنوا“ ماضی کے صیغے کے ساتھ ہے اور ”یتوکلون“ مضارع کے صیغے کے ساتھ مطلب یہ ہے کہ وہ خوب سوچ سمجھ کر ایمان لا چکے اور ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں، اس کی کتابوں، اس کی تقدیر اور اس کے روز جزا پر پورا یقین آچکا ، اب ان کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے ہر کام میں ہمیشہ صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں، کسی اور سے انھیں نہ نفع کی امید ہے نہ کسی نقصان کا خوف۔ ”یتوکلون“ مضارع کا صیغہ ہمیشگی پر دلالت کرتا ہے۔
Top