Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 38
وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا : اور وہ لوگ جو حکم مانتے ہیں لِرَبِّهِمْ : اپنے رب کا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ : اور قائم کرتے ہیں نماز وَاَمْرُهُمْ : اور ان کے معاملات شُوْرٰى بَيْنَهُمْ : آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ : اور اس میں سے جو رزق دیاہم نے ان کو يُنْفِقُوْنَ : وہ خرچ کرتے ہیں
اور وہ لوگ کہ جب ان پر زیادتی واقع ہوتی ہے وہ بدلہ لیتے ہیں۔
(1) والذین استجابوا لربھم : واجب الاجتناب چیزوں کے بعد ان اوصاف کا ذکر فرمایا جن سے آراستہ ہونا ضروری ہے۔ وہ چار ہیں، جن پر عمل اتحاد امت کا اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا ضامن ہے۔ اجابت اور اسجابت دونوں کا معنی ”قبول کرنا“ ہے۔ مگر استجابت میں حروف زائد ہونے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا رب انھیں جس کام کے لئے بلاتا ہے وہ فوراً اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں، نہ دیر کرتے ہیں نہ ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔ ان کے رب کا ان سے تقاضا بھی یہی ہے۔ دیکھیے سورة انفال (24)۔ (2) واقاموا الصلوۃ : ان چار اوصاف میں سے سبسے پہلے نماز قائم کرنے کا ذکر فرمایا، کیونکہ اسلام قبول کرنے کے بعد سب سے پہلا اور سب سے اہم فریضہ یہی نماز قائم کرنا ہے جو سب کے سامنے مسلم و کافر کے درمیان خط امتیاز کھینچ دیتا ہے۔ دیکھیے سورة توبہ (5، 11) (3) وامرھم شوریٰ بینھم :”شار یشور شوراً“ (ن) ”واشتار العسل“ چھتے سے شہد نکالنا۔ مشورے کو مشورہ اور شوریٰ اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ بہت سے لوگوں کی رائے حاصل کرنے کا نام ہے۔ یہ دوسرا وصف ہے۔ وہ کام جن میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے واضح احکام موجود ہیں ان میں مشورے کی ضرورت ہے نہ اجازت کی، ان میں استجابت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ ان کے علاوہ مسلمانوں کے ایک دوسرے سے تعلق رکھنے والے تمام معاملات باہمی مشورے سے طے پاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ تمام لوگوں کی بہتر سے بہتر رائے سے آگاہ ہو کر بہترین بات تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی شخص اپنے آپ کو عقل کل نہیں سمجھتا کہ اپنی رائے کو حرف آخر قرار دے کر اس پر اصرار کرے اور فرعون کی طرح کہے : ماریکم الا ما اری وما اھدیکم الا سبیل الرشاد) (المومن : 29) ”میں تو تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود رائے رکھتا ہوں اور میں تمہیں بھلائی کا راستہ ہی بتارہا ہوں۔“ کیونکہ یہ رویہ کوئی متکبر شخص ہی اختیار کرتا ہے جو دوسروں کو اور ان کی رائے کو کوئی وزن نہ دے، مومن کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(تلک الدار الاخرۃ نجعلھا للذین لایریدون علوا فی الارض ولا فساداً) (القصص : 83)”یہ آخری گھر، ہم اسے ان لوگوں کے لئے بناتے ہیں جو نہ زمین میں کسی طرح اونچا ہونے کا ارادہ کرتے ہیں اور نہ کسی فساد کا۔“ مومن ہمیشہ خئاف رہتا ہے کہ اس سے فہم کی غلطی ہوجائے یا لاعلمی کی وجہ سے یا شیطان یا نفسکے دخل سے غلط فیصلہ کر بیٹھے، اس لئے وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے مشورہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو بھی اپنے صحابہ سے مشورے کا حکم دیا اور آپ ﷺ نے ہمیشہ ان امور میں صحابہ کرام ؓ سے مشورہ کیا جن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے صریح حکم نہیں تھا۔ (4) آج کل بہت سے لوگ ”شوریٰ“ سے مراد جمہویرت اور ووٹ لیتے ہیں، حالانکہ مشورہ تو خلیفہ بھی کرتا ہے، بادشاہ بھی، جیسے ملکہ سبا نے کیا اور چھوٹے سے چھوٹے کنبے کا سربراہ بھی، کیونکہ اس کے بغیر کوئی کام درست طریقے سے چل ہی نہیں سکتا۔ اگر نہ کرنا چاہے تو جمہوری وزیر اعظم بھی مشورے کے بجائے اپنی پارٹی کے ارکان کو اپنی استبدادی رائے پر مجبور کرسکتا ہے، جیسا کہ ہم اپنے ملک میں مشاہدہ کر رہے ہیں۔ مشورے اور جمہوریت کے فرق کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة آل عمران کی آیت (159) (وشاورھم فی الامر) کی تفسیر۔ سورة نمل کی آیت (32) کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔ (5) ومما رزقنھم ینفقون : یہ تیسرا وصف ہے۔ تفصیل کیلئے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (3) کی تفسیر۔
Top