Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 47
اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ
اِسْتَجِيْبُوْا : مان لو۔ قبول کرلو لِرَبِّكُمْ : اپنے رب کے لیے (اپنے رب کی بات کو) مِّنْ : سے قَبْلِ : اس (سے) پہلے اَنْ يَّاْتِيَ : کہ آجائے يَوْمٌ : ایک دن لَّا مَرَدَّ لَهٗ : نہیں پھرنا اس کے لیے۔ ٹلنا اس کے لیے مِنَ اللّٰهِ : اللہ کی طرف سے مَا لَكُمْ : نہیں تمہارے لیے مِّنْ مَّلْجَاٍ : کوئی جائے پناہ يَّوْمَئِذٍ : اس دن وَّمَا لَكُمْ : اور نہیں تمہارے لیے مِّنْ نَّكِيْرٍ : کوئی انکار کرنا
اپنے رب کی دعوت قبول کرو، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی اللہ کی طرف سے کوئی صورت نہیں، اس دن نہ تمہارے لیے کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تمہارے لیے انکار کی کوئی صورت ہوگی۔
(1) استجیبوا لربکم من قبل …:”مرد“”رد یردر داً“ (ن) سے مصدر میمی بھی ہوسکتا ہے۔ ظرف زمان بھی اور ظرف مجکان بھی، ہاٹنے یا ٹالنے کی کوئی صورت یا کوئی وقت یا کوئی جگہ۔ اس جملے میں اللہ تعالیٰ کی دعوت کو جلد از جلد قبول کرنے کی تاکید کئی طرح سے فرمائی ہے۔ سب سے پہلے ”اجیبوا“ کے بجائے ”استجیبوا“ کے لفظ کے ساتھ۔ تفصیل کے لئے دیکھیے اسی سورت کی آیت (38) کی تفسیر۔ پھر اپنی ربوبیت کے احسان کی یاد دہانی کے ساتھ اور آخر میں اس دن سے ڈرانے کے ساتھ جس کے آنے کے بعد نہ اس کے ٹالے جانے کی کوئی صورت ہے، نہ وہ کسی وقت ٹالا جاسکے گا اور نہ کسی مقام پر ٹلے گا۔ (2) لا مرد لہ من اللہ : اس کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ اس کے آنے کے بعد اللہ کی طرف سے اسے ہٹانے کی کوئی صورت نہیں، یعنی اللہ تعالیٰ اسے کسی صورت نہیں ہٹائے گا۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے آنے کے بعد کوئی ایسی ہستی نہیں جو اسے ہٹا سکے۔ (3) ومالکم من نکیر : ”نکیر“ مصدر ہو تو اس کا معنی انکار بھی ہے اور نکرہ (اجنبی اور بےپہچان) ہونا بھی اور اگر ”قعیل“ بمعنی اسم فاعل ہو یعنی ”منکر“ تو معنی ”بدلنے والا“ ہوگا۔ یعنی قیامت کے دن تم اپنے جرائم کا کسی طرح انکار نہیں کرسکو گے، بلکہ نامہ اعمال اور فرشتوں کی شہادتوں حتیٰ کہ اپنے اعضا کی گواہی کی وجہ سے تمہارے پاس انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔”مالکم من نکیر“ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ تمہیں جو سزا دی جائے گی تم اس پر کوئی احتجاج نہیں کرسکو گے، نہ کوئی انکار کہ ہم یہ سزا قبول نہیں کرتے، نہ ہی تم یا کوئی اور اس حالت کو بدلنے والا ہوگا جس میں تم مبتلا ہوگے اور یہ بھی نہیں ہوگا کہ تمہاری پہچان نہ ہو سکے اور تم اجنبی اور غیر معروف بن کر چھوٹ جاؤ یا بھیس بدل کر چھپ جاؤ۔
Top