Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 51
وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ
وَمَا كَانَ : اور نہیں ہے لِبَشَرٍ : کسی بشر کے لیے اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ : کہ کلام کرے اس سے اللہ اِلَّا وَحْيًا : مگر وحی کے طور پر اَوْ مِنْ : یا، سے وَّرَآئِ حِجَابٍ : پردے کے پیچھے سے اَوْ يُرْسِلَ : یا وہ بھیجتے رَسُوْلًا : کوئی پہنچانے والا فَيُوْحِيَ : تو وہ وحی کرے بِاِذْنِهٖ : ساتھ اس کے اذن کے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہے اِنَّهٗ : یقینا وہ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ : بلند ہے، حکمت والا ہے
اور کسی بشر کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے، یا پردے کے پیچھے سے، یا یہ کہ وہ کوئی رسول بھیجے، پھر اپنے حکم کے ساتھ وحی کرے جو چاہے، بیشک وہ بےحد بلند، کمال حکمت والا ہے۔
(1) وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ : کفار کا کہنا تھا :(لولا یکلمنا اللہ) (البقرۃ :118)”اللہ ہم سے (خود) کلام کیوں نہیں کرتا ؟“ بلکہ ان کی خواہش تھی کہ جس طرح نبی ﷺ کو کتاب عطا ہوئی ہم میں سے ہر ایک کو اسی طرح کتاب ملے، جیسا کہ فرمایا :(بل یرید کل امری منھم ان یوتی صحفاً منشرۃ) (المدثر : 52)”بلکہ ان میں سے ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے صحیفے دیئے جائیں۔“ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک سے کلام نہیں کرتا ، بلکہ وہ اس کے لئے فرشتوں اور انسانوں میں سے انتخابات کرتا ہے، فرمایا :(اللہ یصطفی من الملٓئکۃ رسلاً و من الناس) (الحج :85)”اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چنتا ہے اور لوگوں سے بھی۔“ اس نعمت سے بھی وہ جسے چاہتا ہے نوازتا ہے، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے یہ نعمت کیوں نہیں ملی۔ اس آیت میں فرمایا کہ وہ اپنے ان چنے ہوئے بندوں کے ساتھ بھی آمنے سامنے کلام نہیں کرتا اور نہ ہی یہ بات دنیا میں کسی بشر کے لئے ممکن ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بندوں کے ساتھ بھی آمنے سامنے کلام نہیں کرتا اور نہ ہی یہ بات دنیا میں کسی بشر کے لئے ممکن ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (حجابہ النور و فی روایۃ ابی بکر النار، لو کشفہ لا حرفت سبحات وجھہ ما انتھی الیہ بصرہ من خلفہ) (مسلم الایمان، باب فی قولہ ؑ ”ان اللہ لا ینام“ …: 189) ”اللہ تعالیٰ کا حجاب ”نور“ ہے۔“ ابوبکر کی روایت میں ہے کہ ”نار“ ہے ”اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی شعائیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے اس کی مخلوق کو جلا دیں۔ ”ہاں آخرت میں ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة قیامہ (22، 23)۔ (2) الا وحیاً : فرمایا اللہ تعالیٰ انسانوں سے ان تین طریقوں کے علاوہ کلام نہیں کرتا، ایک وحی کے ذریعے سے، یعنی یہ کہ وہ اپنے بندے کے دل میں کسی واسطے کے بغیر کوئی بات ڈلا دے جس سے اسے یقین ہوجائے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، خواہ بیداری کی حالت میں ہو یا نیند میں، کیونکہ انبیاء کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔ دیکھیے سورة صافات (102)۔ (3) او من ورآی حجاب : یا یہ کہ وہ پردے کیپ یچھے سے کلام کرے، جیسے اس نے موسیٰ ؑ سے کلام کیا، مگر جب انہوں نے دیکھنے کی درخواست کی تو وہ قبول نہیں ہوئی۔ (4) اویرسل رسولاً : یا اللہ تعالیٰ کوئی فرشتہ بھیج کر جو بات پہنچانا چاہے پہنچا دے، جیسے جبریل ؑ یا دوسرے فرشتوں کے ذریعے سے آپ کے پاس وحی آتی تھی۔ (5) انہ علی حکیم : یعنی وہ اس سے بہت بلند ہے کہ کسی بشر سے رو در رو کلام کرے، یا ہر ایک اس کے کلام کا شرف حاصل کرسکے اور وہ کمال حکمت والا ہے، جس کے تحت وہ ہر بشر سے کلام نہیں کرتا۔
Top