Al-Quran-al-Kareem - Al-Hadid : 8
وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
وَمَا لَكُمْ : اور کیا ہے تمہارے لیے لَا تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ ۚ : نہیں تم ایمان لاتے ہو اللہ پر وَالرَّسُوْلُ : اور رسول يَدْعُوْكُمْ : بلاتا ہے تم کو لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ : تاکہ تم ایمان لاؤ اپنے رب پر وَقَدْ اَخَذَ : حالانکہ تحقیق اس نے لیا ہے مِيْثَاقَكُمْ : پختہ عہد تم سے اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : اگر ہو تم ایمان لانے والے
اور تمہیں کیا ہے تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے، جب کہ رسول تمہیں دعوت دے رہا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ اور یقینا وہ تم سے پختہ عہد لے چکا ہے، اگر تم ایمان والے ہو۔
1۔ وَمَا لَکُمْ لاَ تُؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِ ج۔۔۔۔۔۔: یہ خطاب بھی مسلمانوں ہی سے ہے ، اس کی دلیل آیت کا آخری جملہ والی آیت (10) (لاَ یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰـتَلَ ط) بھی اس کی دلیل ہے۔ جس طرح پچھلی آیت میں ایمان والوں کو ایمان لانے اور خرچ کرنے کا حکم ہے ، اسی طرح اس آیت میں بھی انہیں جھنجھوڑا جا رہا ہے کہ آخر وجہ کیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے ؟ یعنی اس پر ایمان کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے اس کے راستے میں خرچ نہیں کرتے ، حالانکہ رسول خود تمہارے درمیان موجود ہے اور بہ نفس نفیس تمہیں اس بات کی دعوت دے رہا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ اور اس پر یقین رکھتے ہوئے اس کی راہ میں خرچ کرو۔ 2۔ وَقَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ :”اخذ“ کا فاعل ”الرسول“ کی ضمیر بھی ہوسکتی ہے اور لفظ ”اللہ“ کی ضمیر بھی ، یعنی جب تم نے ایمان قبول کیا تھا اس وقت اللہ نے تم سے اطاعت کا پختہ عہد لیا تھا، اسی طرح کلمہ ٔ اسلام کے ساتھ تم رسول کو بھی اپنی اطاعت کا پختہ عہد دے چکے ہو ، تو اب اطاعت سے گریز اور جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرنے سے دریغ کیوں کر رہے ہو ؟ اللہ تعالیٰ کے عہد لینے کا ذکر اس آیت میں ہے :(وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللہ ِ عَلَیْکُمْ وَمِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِہٖٓ لا اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاز وَاتَّقُوا اللہ ط اِنَّ اللہ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ) (المائدہ : 7)”اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو اور اس کا عہد جو اس نے تم سے مضبوط باندھا ، جب تم نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا اور اللہ سے ڈرو ، بیشک اللہ سینوں کی بات کو خوب جاننے والا ہے“۔ اور رسول اللہ ﷺ کو عہد دینے کا ذکر اس حدیث میں ہے جو عبادہ بن صامت ؓ سے مروی ہے ، انہوں نے فرمایا :(بایعنا رسول اللہ ﷺ علی السمع والطاعۃ فی المنشط والمکرہ وان لا ننازع الامر اھلہ ٗ ، وان نقوم او نقول بالحق حیثما کنا ، لا نحاف فی اللہ لومۃ لائم) (بخاری ، الاحکام ، باب کیف یبابع الامام الناس ؟: 7199، 7200) ”ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی کہ نشاط اور ناگواری دونوں حالتوں میں سمع و طاعت کریں گے اور صاحب امر سے امارات میں جھگڑا نہیں کریں گے اور جہاں بھی ہوں گے حق کہیں گے ، اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے“۔ 3۔ بعض مفسرین نے ”وَقَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَکُمْ“ سے ”الست بربکم“ والا عہد مراد لیا ہے ، جس کا ذکر سورة ٔ اعراف (172) میں ہے ، مگر یہاں آیات کا سیاق اس کی موافقت نہیں کرتا ، اس لیے پہلی تفسیر ہی درست ہے۔ ابن کثیر ؒ تعالیٰ نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے۔
Top