بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Al-Quran-al-Kareem - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
بہت برکت والا ہے وہ کہ تمام بادشاہی صرف اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تَبٰـرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ :”تبرک“ ”برکۃ“ سے باب تفاعل ہے۔ اس میں مبالغہ پایا جاتا ہے، اسی مناسبت سے ترجمہ ”بہت برکت والا“ کیا گیا ہے۔ ”برکۃ“ کے معنی میں زیادہ ہونا ، بڑھنا ہونا۔”تبرک“ یعنی وہ خیر اور بھلائی میں ساری کائنات سے بےانتہاء بڑھا ہوا ہے اور بلندی ، بڑائی اور احسان ، غرض ہر لحاظ سے اس کی ذات بےحد و حساب خوبیوں اور بھلائیوں کی جامع ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ فرقان کی پہلی آیت کی تفسیر۔ 2۔”بیدہ“ پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا ، اس لیے ترجمہ ”صرف اس کے ہاتھ میں ہے“ کیا گیا ہے۔ 3۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں بادشاہ تو بہت ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ کیسے فرما دیا کہ تمام بادشاہی صرف اس کے ہاتھ میں ہے ؟ جواب یہ ہے کہ دنیا کا سارا نظام ایک دوسرے کی محتاجی پر چل رہا ہے ، رعایا اپنی ضروریات مثلاً جان و مال ، عزت و آبرو اور دین و ایمان کی حفاظت کے لیے بادشاہ کی محتاج ہے اور بادشاہ اپنے کام چلانے کے لیے رعایا کا محتاج ہے ، اگر وہ اس کا ساتھ نہ دیں اور اسے ٹیکس نہ دیں تو وہ ایک لمحہ کے لیے بادشاہ نہیں رہ سکتا۔ سورة ٔ زخرف میں یہی نکتہ بیان کیا گیا ہے ، فرمایا (لِّیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا) (الزخرف : 32)”تا کہ ان کا بعض بعض کو تابع بنا لے“۔ ایک شاعر نے دنیوی بادشاہوں کی محتاجی کا کیا خوب نقشہ کھینچا ہے ؎ مانگنے والا گدا ہے ، صدقہ مانگے یاخراج کوئی مانے یا نہ مانے میرو سلطان سب گدا اس کے علاوہ دنیا میں کوئی بادشاہ ہے یا محکوم ، ایک دوسرے کے محتاج ہونے کے باوجود دونوں میں سے کسی کے بھی ہاتھ میں فی الحقیقت کچھ بھی نہیں۔ ان کی اپنی دولت و فقر ، صحت و بیماری ، عزت و ذلت ، فتح و شکست ، جانی و بڑھاپا ، نفع و نقصان اور موت و حیات ، غرض سب کچھ اللہ مالک الملک کے ہاتھ میں ہے ، تو پھر یہ کہنے میں کیا مبالغہ ہے کہ تمام بادشاہی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ؟ دوسرا کوئی بادشا ہے بھی تو نام کا ہے۔ حقیقت میں بادشاہ ایک ہی ہے ، باقی سب گدا ہیں ، جیسا کہ فرمایا :(یٰٓـاَیُّہَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ اِلَی اللہ ِ) (فاطر : 15)”اے لوگو ! تم ہی اللہ کی طرح محتاج ہو“۔ 4۔ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرُ :”شیئ“ ”شاء یشائ“ کا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے ، چاہت۔ یعنی وہ اپنی ہر چاہت اور ہر چیز پر قادر ہے ، چو چاہے کرسکتا ہے۔ دنیا کے بادشاہوں کی طرح نہیں کہ جن کی بےشمام چاہتیں پوری ہونے کے بجائے حسرتیں بن کر ان کے ساتھ ہی قبر میں دفن ہوجاتی ہیں۔
Top