Al-Quran-al-Kareem - Al-Mulk : 2
اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ
الَّذِيْ : جس نے خَلَقَ الْمَوْتَ : پیدا کیا موت کو وَالْحَيٰوةَ : اور زندگی کو لِيَبْلُوَكُمْ : تاکہ آزمائے تم کو اَيُّكُمْ : کون ساتم میں سے اَحْسَنُ عَمَلًا : زیادہ اچھا ہے عمل میں وَهُوَ الْعَزِيْزُ : اور وہ زبردست ہے الْغَفُوْرُ : بخشش کرنے والا ہے
وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے اور وہی سب پر غالب، بےحد بخشنے والا ہے۔
1۔ نِالَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ۔۔۔: یہاں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی پیدا کی ہوئی چند چیزوں کا ذکر فرمایا جو مخلوق کی باہر ہیں، تا کہ انسان کے دل میں اللہ کی قدرت کا پورا یقین جم جائے۔ اس مقام پر اپنی قدرتوں میں سے پہلی چیز موت و حیات ذکر فرمائی ، کیونکہ موت اور زندگی میں انسان کے تمام احوال پورے پورے آجاتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی دنیا میں آنے سے پہلے کی حالت کو موت قرار دیا اور دنیا میں آنے کے بعد یہاں سے جانے کو بھی موت قرار دیا۔ اسی طرح دنیا میں آنے کو زندگی قرار دیا ، پھر موت کے بعد اٹھنے کو زندگی قرار دیا ، جیسا کہ فرمایا :(کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِ اللہ ِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَـاَحْیَاکُمْج ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ) (البقرہ : 28)”تم کیسے اللہ کا انکار کرتے ہو ، حالانکہ تم بےجان تھے تو اس نے تمہیں زندگی بخشی ، پھر تمہیں موت دے گا ، پھر تمہیں زندہ کرے گا ، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے“۔ یہاں فرمایا کہ اللہ نے موت و حیات کو پیدا فرمایا۔ معلوم ہوا کہ موت بھی ایک مخلوق ہے ، یہ عدم محض (بالکل نہ ہونے) کا نام نہیں ، کیونکہ دنیا میں آنے سے پہلے بھی انسان اللہ کے علم اور اس کی تقدیر میں موجود تھا اور اس کے دنیا میں آنے وقت مقرر تھا مگر روح و جسم کا اتصال نہیں تھا، اسے موت قرار دیا ، پھر دنیا میں آنے کے بعد روح جسم سے جدا ہوئی تو اسے بھی موت قرار دیا۔ قیامت کے دن موت ایک مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(یوتی بالموت کھیئۃ کبش املح فینادی مناد یا اھل الجنۃ ! فیشرثبون و ینظرون فیقول ھل تعرفون ھذا ؟ فیقولون نعم ، ھذا الموت ، و کلھم قد راہ ، ثمو ینادی یا اھل النار ! فیشرئبون و ینظرون ، فیقول ھل تعرفون ھذا ؟ فیقولون نعم ھذا الموت ، وکلھم قد راہ فیذیح ثم یقول یا اھل الجنۃ ! خلود فلا موت ، و یا اھل النار ! خلود فلا موت ، ثم قرا، (وانذزھم یوم الحسرۃ اذا قضی الامر و ھم فی غفلۃ) وھولا فی غفلۃ اھل الدنیا (وھم لا یومنون) (بخاری ، التفسیر ، باب قولہ عزوجل ، (وانذرھم یوم الحسرۃ): 4830)”موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا ، پھر ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا“۔ اے اہل جنت !“ وہ گردن اٹھا کر دیکھیں گے تو وہ کہے گا :”اسے پہچانتے ہو ؟“ وہ کہیں گے :”ہاں ! یہ موت ہے“۔ وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے ، پھر وہ اعلان کرے گا :”اے اہل نار !“ وہ گردن اٹھا کر دیکھیں گے تو وہ کہے گا :”اے پہچانتے ہو ؟“ وہ کہیں گے :”ہاں ! یہ موت ہے“۔ وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے۔ تو اسے ذبح کردیا جائے گا ، پھر کہے گا :”اے اہل جنت ! (اب تمہارے لیے) ہمیشہ زندہ رہنا ہے ، موت نہیں اور اے اہل نار ! (تمہارے لیے بھی) ہمیشہ زندہ رہنا ہے ، موت نہیں“۔ پھر یہ آیت پڑھی :(وانذر ھم یوم الحسرۃ اذ قضی الامر و ھم فی غفلۃ) (اور انہیں پچھتاوے کے دن سے ڈرا جب ہر کام کا فیصلہ کردیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں) یعنی یہ دنیا والے سراسر غفلت میں ہیں ”اور وہ ایمان نہیں لا رہے“۔ 3۔ زندگی اور موت دونوں اس امتحان کے لیے پیدا کی گئی ہیں کہ انسانوں میں سے اچھے عمل کون کرتا ہے ؟ اگر موت اور موت کے بعد والی زندگی نہ ہوتی تو آدمی اچھے اعمال کے لیے جدوجہد اور برے اعمال سے پرہیز کیوں کرتا ؟ اور موت اور حیات بعد الموت نہ ہوتی تو اچھے اور برے اعمال کا بدلا کہاں ملتا اور اگر دنیا میں انسان کو زندگی نہ ملتی اور نہ عمل کا موقع ملتا تو جزا اور سزاکس چیز پر ہوتی ؟ 4۔ وھو العزیز الغفور : وہ عزیز ہے ، ایسا زبردست ہے کہ اعمال کی جزا و سزا پر پورا اختیار رکھتا ہے اور ایسا غالب کہ کوئی اس پر غالب نہیں ، مگر اتنی قوت و عزت کے باوجود ظالم یا سخت گیر نہیں بلکہ غفور ہے اور ایسا غفور کہ کوئی توبہ کرے تو جتنے بھی گناہ کیے ہوں بخش دیتا ہے۔ توبہ کے بغیر بھی اگر اس کے ساتھ شرک نہ کیا ہو تو جسے چاہے گا بخش دے گا ، فرمایا :(ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر ما دون ذلک لمن یشائ) (النسائ : 116)”بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے جسے چاہے گا بخش دے گا“۔ اور شرک اس لیے معاف نہیں کرے گا کہ یہ اس کے عزیز ہونے کے خلاف ہے۔
Top