Al-Quran-al-Kareem - Al-Mulk : 28
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ
قُلْ : کہہ دیجئے اَرَءَيْتُمْ : کیا دیکھا تم نے اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ : اگر ہلاک کردے مجھ کو اللہ وَمَنْ مَّعِيَ : ار اسے جو میرے ساتھ ہے اَوْ رَحِمَنَا : یا وہ رحم کرے ہم پر فَمَنْ يُّجِيْرُ : تو کون پناہ دے گا الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کو مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ : دردناک عذاب سے
کہہ دے کیا تم نے دیکھا اگر اللہ مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں ہلاک کر دے، یا ہم پر رحم فرمائے تو کون ہے جو کافروں کو دردناک عذاب سے پناہ دے گا ؟
قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ اَھْلَکَنِیَ اللہ ُ۔۔۔۔۔۔۔:”یجیر“”اجار یجیر اجارۃ“ افعال اجوف واوی۔ کفار مکہ اسلام کے پھیلنے سے پریشان ہو کر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے خلاف اپنی تمام کوششوں کا نکام ہونا دیکھ کر اس امید پر جی رہے تھے کہ کبھی نہ کبھی زمانے کی گردش ان کا کام تمام کر دے گی۔ (دیکھیے طور : 30) اس پر حکم ہوا کہ ان سے کہو کہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے ، تو تمہیں اس سے کیا غرض ہے ؟ تم اپنی فکر کرو کہ کفر کے نتیجے میں جو عذاب الیم تم پر آنے والا ہے ، تمہیں اس سے کون بچائے گا ؟
Top