Al-Quran-al-Kareem - Al-Insaan : 8
وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا
وَيُطْعِمُوْنَ : اور وہ کھلاتے ہیں الطَّعَامَ : کھانا عَلٰي : پر حُبِّهٖ : اس کی محبت مِسْكِيْنًا : محتاج، مسکین وَّيَتِيْمًا : اور یتیم وَّاَسِيْرًا : اور قیدی
اور وہ کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور قیدی کو۔
(1) ویطعمون الطعام علی حبہ…: اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں، ایک یہ کہ خود کھانے کی خواہش و ضرورت کے باوجود وہ دوسرے مستحقین کو کھلا یدتے ہیں، دوسرا یہ کہ اللہ کی محبت کی وجہ سے ان لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ یہاں پہلا معنی زیادہ موزوں ہے، کیونکہ دوسرا معنی تو اگلی آیت :(انما نطعمکم لوجہ اللہ) (ہم تو تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لئے کھلاتے ہیں) میں آہی رہا ہے، لہٰذا تکرار سے بہتر ہے کہ الگ الگ مفہوم مراد لیا جائے۔ مزید دیکھیے سورة حشر کی آیت (9):(ویوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ) کی تفسیر۔ (2) مسکین، یتیم اور اسیر کو کھانا کھلانا ان اہم ترین مواقع میں سے ہے جہاں صدقہ کرنے کا حق ہے، کیونکہ مسکن وہ ہے جس کی کمائی سے اس کی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں، یتیم اس سے بھی عاجز ہے کیونکہ اس کا کمانے اولا فوت ہوچکا ہے اور وہ کم عمر ہونے کی وجہ سے کمائی نہیں کرسکتا اورق یدی ان دونوں سے زیادہ عاجز ہے، کیونکہ اسے کسی چیز کا اختیار ہی نہیں، وہ کلیتاً دوسروں کے رحم و کرم پر ہے۔ (3) زمانہ جاہلیت میں اسیروں سے بہت برا سلوک کیا جاتا تھا، انہیں بیڑیاں لگا کر ہر روز باہر نکالا جاتا تاکہ وہ گدائی کے ذریعے سے اپنی ضرورت کی چیزیں لوگوں سے حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اسیروں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ”ابرار“ کی صفت یان فرمائی کہ وہ خود ضرورت مند ہونے کے باوجود مسکین، یتیم اور سایر کو کھانا کھلاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے متعلق صحابہ کو تاکید فرمائی کہ ان کا اکرام کریں۔ چناچہ وہ کھانے کے وقت انہیں اپنے آپ پر مقدم رکھتے۔ (ابن کثیر) رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسلمانوں کے ہاں اسیر کافر لوگ ہی تھے جو جنگوں میں گرفتار ہو کر آتے تھے، آپ کے زمانے میں مسلمان اسیر نہیں رکھے جاتے تھے، مگر آیت کے الفاظ عام ہیں، اسلئے کوئی مشرک اسیر ہو یا کسی جرم یا مطلابے میں گرفتار سملم سایر، سب سے حسن سلوک لازم ہے، بلکہ مسلمان اسیروں سے احسان بالا اولیٰ لازم ہے۔ اس کے علاوہ غلام بھی اسیر میں شامل ہے، رسول اللہ ﷺ نے آخری وصیت میں فرمایا :(الصلاۃ وما ملکت ایمانکم) (ابن ماجہ، الوصایا، باب ھل اوضی رسول اللہ ﷺ ، 2698۔ ابو داؤد : 5156، وقال الالبانی صحیح)”نماز اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا۔“ (4) اس آیت کی شان نزول میں علی و فاطمہ ؓ اور ان کی لونڈی فضہ کے حسنین ؓ کی صحت کے لئے ین روزوں کی نذر ماننے اور فاطار کے وقت قرض لائے ہوئے جو سے تیار کردہپ انچ روٹیاں سب کی سب ایک دن مسکین، دوسرے دن یتیم اور تیسرے دن اسیر کو دے دینے کی جو روایت بیان کی جاتی ہے وہ بالکل من گھڑت اور موضوع ہے۔ ابن جوزی نے اسے ”الموضوعات“ میں ذکر کیا ہے اور قرطبی نے تفصیل سے اس پر جرح کی ہے۔ اہل بیت نبوت کے فضائل کا ثبوت اس قسم کی موضوع روایات کا محتاج نہیں اور نہ ہی یہ کوئی نیکی ہے کہ مسکین کو ایک کے بجائے پانچوں روٹیاں دے دی جائیں اور تین دن رات بچوں کو بھوکا رکھائے۔ (5) اس آیت سے معلوم ہوا کہ یتیموں، مسکینوں اور اسیروں کو، خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، کھانا کھلانے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ ہاں، فرض زکوۃ صرف مسلمانوں پر خرچ ہوگی، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(توخذ من اغنیائھم فترد علی فقرائھم) (بخاری، الزکاۃ باب اخذ الصدقۃ من الاغنیاء …: 1396)”(فرض صدقہ) مسلمانوں کے اغنیا سے لیا جائے گا اور ان کے فقراء پر خرچ کیا جائے گا۔“
Top