بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Anwar-ul-Bayan - An-Nahl : 1
اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
اَتٰٓى : آپہنچا اَمْرُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ : سو اس کی جلدی نہ کرو سُبْحٰنَهٗ : وہ پاک وَتَعٰلٰى : اور برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک بناتے ہیں
آپہنچا اللہ کا حکم سو تم اس میں جلدی نہ کرو وہ پاک ہے اور اس سے برتر ہے جو وہ شریک تجویز کرتے ہیں
قیامت کا آنا یقینی ہے، انسان بڑا جھگڑالو ہے یہاں سے سورة نحل شروع ہے اس میں عموماً اللہ کی توحید بیان کی گئی ہے اور توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں اور مشرکین کی تردید فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائی ہیں، اس میں ایک جگہ شہد کی مکھی کے گھر بنانے اور پھلوں کو چوسنے اور اس سے شہد پیدا ہونے کا تذکرہ فرمایا ہے، شہد کی مکھی کو عربی میں نحل کہتے ہیں اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورة النحل رکھا گیا۔ مذکورہ بالا آیت میں معاد یعنی قیامت اور توحید و رسالت اور آسمان و زمین کی تخلیق اور انسانوں کی پیدائش کا تذکرہ فرمایا ہے اول تو یہ فرمایا (اَتآی اَمْرُاللّٰہِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ ) (اللہ کا حکم آپہنچا لہٰذا تم اس کے بارے میں جلدی نہ مچاؤ) جب مشرکین کے سامنے ایمان نہ لانے پر اور شرک اختیار کرنے پر عذاب آنے کا تذکرہ ہوتا تھا تو کہتے تھے کہ عذاب آنے والا نہیں یہ تو خالی دھمکیاں ہیں ہمیں تو عذاب آتا ہوا نظر نہیں آتا، اور جب قیامت کی بات سامنے آتی تھی تو اس کا بھی انکار کرتے تھے اور عذاب کے بارے میں کہتے تھے کہ عذاب آنا ہے تو کیوں نہیں آجاتا، ابھی آجائے اور جلدی آجائے، ان کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ کا حکم آپہنچا یعنی اس کا آنا یقینی ہے اور جس چیز کا آنا یقینی ہو وہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی چیز پہنچی ہو، کسی چیز کے آنے میں دیر لگنا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ نہیں آئے گی، دنیا کی جتنی زندگی گزر گئی اس کے اعتبار سے اب قیامت کے آنے میں قابل ذکر دیر نہیں رہی، یہ امت آخر الامم ہے اس کے بعد کوئی امت نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بعثت انا والساعۃ کھاتین (یعنی میں اور قیامت دونوں اس طرح سے بھیجے گئے ہیں جیسے آپس میں یہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں اور ان میں بیچ کی انگلی اشارہ والی انگلی ہے ذرا سی آگے بڑھی ہوئی ہے) اتنی بات ہے کہ میں اس سے پہلے آگیا۔ (رواہ البخاری) بعض مفسرین نے (اَمْرُاللّٰہِ ) سے تکذیب کرنے والوں کا عذاب مراد لیا ہے صاحب معالم التنزیل (ص 17 ج 2) لکھتے ہیں کہ نضر بن حارث نے یوں کہا تھا اللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ (کہ اے اللہ اگر یہ (یعنی دین اسلام) حق ہے آپ کی طرف سے ہے (تو اس کے قبول نہ کرنے پر) ہم پر آسمان سے پتھر برسا دیجیے، اس نے عذاب جلدی آنے کا مطالبہ کیا لہٰذا عذاب آگیا اور وہ (اور اسکے ساتھی) غزوہ بدر کے موقع پر مقتول ہوگئے۔ پھر فرمایا (سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ) (وہ پاک ہے اور اس سے برتر ہے جو وہ شرک کرتے ہیں) مشرکین اللہ تعالیٰ کے لیے شریک قرار دیتے تھے اور غیر اللہ کو بھی عبادت کا مستحق جانتے تھے اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی تنزیہ بیان فرمائی اور صاف بتادیا کہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی شریک ہو اور اس سے برتر ہے کہ کوئی اس کے برابر اور مستحق عبادت ہو، یہ مضمون جگہ جگہ قرآن میں واضح طور پر بیان فرمایا ہے۔
Top