Anwar-ul-Bayan - An-Nahl : 110
ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠   ۧ
ثُمَّ : پھر اِنَّ : بیشک رَبَّكَ : تمہارا رب لِلَّذِيْنَ : ان لوگوں کے لیے هَاجَرُوْا : انہوں نے ہجرت کی مِنْۢ بَعْدِ : اس کے بعد مَا : کہ فُتِنُوْا : ستائے گئے وہ ثُمَّ : پھر جٰهَدُوْا : انہوں نے جہاد کیا وَصَبَرُوْٓا : اور انہوں نے صبر کیا اِنَّ : بیشک رَبَّكَ : تمہارا رب مِنْۢ بَعْدِهَا : اس کے بعد لَغَفُوْرٌ : البتہ بخشنے والا رَّحِيْمٌ : نہایت مہربان
پھر بیشک آپ کا رب ایسے لوگوں کے لیے جنہوں نے فتنہ میں ڈالے جانے کے بعد ہجرت کی پھر جہاد کیا اور ثابت قدم رہے تو بلاشبہ آپ کا رب ان چیزوں کے بعد بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے
ہجرت کرکے ثابت قدم رہنے والوں کا اجر وثواب، قیامت کے دن کی پیشی کا ایک منظر یہ دو آیتیں ہیں پہلی آیت کے بارے میں علامہ بغوی معالم التنزیل (ص 87 ج 3) میں لکھتے ہیں کہ عیاش بن ابی ربیعہ اور ابی جندب اور ولید بن ولید اور سلمہ بن ہشام اور عبد اللہ بن ابی اسید کے بارے میں نازل ہوئی ان حضرات کو مشرکین نے اسلام قبول کرنے پر تکلیفیں دیں تو انہوں نے ان کے شر سے محفوظ ہونے کے لیے بعض ایسے کلمات کہہ دئیے جو مشرکین کی خواہش کے مطابق تھے پھر ان حضرات نے ہجرت کی اور جہادوں میں حصہ لیا اور استقامت کے ساتھ ایمان پر جمے رہے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر مہربانی فرمائے گا۔ صاحب معالم التنزیل نے حضرت حسن اور حضرت عکرمہ سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ یہ آیت عبد اللہ بن ابی سرح کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے اسلام کے بعد کفر اختیار کرلیا تھا پھر فتح مکہ کے دن مسلمان ہوگئے اور اچھے مسلمان ہوگئے ہجرت کی اور جہادوں میں بھی حصہ لیا۔ آیت کا سبب نزول جو بھی ہو اللہ تعالیٰ شانہ کی طرف سے یہ اعلان عام ہے کہ کفر کے بعد جو بھی شخص ایمان قبول کرے گا اور ایمان پر ثابت قدم رہے گا دارالسلام کو ہجرت کرے گا جہاد میں حصہ لے گا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مغفرت فرما دے گا اسلام کی وجہ سے وہ سب معاصی ختم ہوجاتے ہیں جو زمانہ کفر میں کیے تھے اِنَّ الْاِسْلاَمَ یَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہٗ فتنہ میں ڈالنے والے ہوں یا فتنہ میں ڈالے جانے ہوں اخلاص کے ساتھ اسلام قبول کرنے پر پچھلا سب کچھ معاف ہے۔ قد قرأ ابن عامر فتنوا علی صیغۃ الماضی المعلوم۔
Top