Anwar-ul-Bayan - Al-Muminoon : 112
قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ
قٰلَ : فرمائے گا كَمْ لَبِثْتُمْ : کتنی مدت رہے تم فِي الْاَرْضِ : زمین (دنیا) میں عَدَدَ : شمار (حساب) سِنِيْنَ : سال (جمع)
اللہ تعالیٰ کا سوال ہوگا کہ تم برسوں کی گنتی کے اعتبار سے زمین میں کتنے دن رہے،
اللہ تعالیٰ برتر ہے مالک ہے حق ہے وحدہ لا شریک ہے، کافر کامیاب نہیں ہونگے کافروں سے اللہ تعالیٰ شانہٗ کا یہ بھی سوال ہوگا کہ تم زمین میں برسوں کی گنتی کے اعتبار سے کتنے دن رہے ؟ وہ وہاں ہیبت اور ہول کی وجہ سے ہوش و حواس گم کرچکے ہونگے اس لیے جواب میں کہیں گے کہ ہمیں تو کچھ ایسا خیال آتا ہے کہ ایک دن یا اس سے بھی کم دنیا میں رہے ہونگے اور صحیح بات یہ ہے کہ ہمیں یاد ہی نہیں ہے شمار کرنے والوں سے یعنی فرشتوں سے سوال فرما لیجیے ہماری عمروں کا صحیح حساب ان کو معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ تم دنیا میں تھوڑی ہی مدت رہے وہاں جتنے دن بھی زندگی گزاری وہ آخرت کے مقابلہ میں تھوڑی ہی ہے، وہ دارالفنا تھا اب دارلقرار میں آئے ہو۔ یہاں موت نہیں ہے اگر تم دنیا میں ہی حقیقیت کو سمجھ لیتے۔ اور موت کے بعد زندہ ہو کر حساب کتاب کی پیشی کا یقین کرلیتے تو تمہارے حق میں اچھا ہوتا۔ مزید ارشاد ہوگا کہ تم نے دنیا میں جو زندگی گزاری اس میں تم یہ جانتے تھے کہ ہمارے خالق نے ہمیں پیدا کیا ہے کیا یہ بات جاننے کے باو جود تم نے یہ سمجھا کہ ہمارے خالق کا ہم پر حق ہے وہ حکیم مطلق ہے اس نے ہمیں حکمت کے موافق پیدا کیا ہے تم نے اس حقیقت کو نہ سمجھا اور الٹے یوں سمجھے کہ ہماری پیدائش بطور عبث ہے اس میں خالق جل مجدہ کی نہ کوئی حکمت ہے اور نہ ہمیں مر کر اپنے خالق کی طرف واپس لوٹنا ہے، تمہاری اس ناسمجھی اور غلط بیانی نے تمہیں برباد کردیا اور آج تمہیں دوزخ میں جانا پڑا۔ سورة حم سجدہ میں ہے (وَذٰلِکُمْ ظَنُّکُمْ الَّذِیْ ظَنَنتُمْ بِرَبِّکُمْ اَرْدَاکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ ) (اور تمہارا یہ گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا اس نے تمہیں ہلاک کردیا سو تم خسارہ والوں میں ہوگئے) (فَتَعٰلَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ ) (سو برتر ہے اللہ بادشاہ ہے حق ہے) (لَا اِِلٰہَ اِِلَّا ھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیمِ ) (اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے) سب سے بڑا بادشاہ ہے ملک الملوک ہے اس کے علاوہ کسی دوسرے کو بھی معبود ماننا یہ بہت بڑی بغاوت ہے یہ باغی یوں نہ سمجھیں کہ ہمارا کوئی مواخذہ اور محاسبہ نہ ہوگا۔ محاسبہ ضرور ہوگا اور کافر لوگ وہاں میدان آخرت میں نا کام ہونگے۔ یعنی دوزخ میں جائیں گے مشرکین جو شرک کرتے ہیں ان کے پاس اس کے صحیح ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے اسی کو فرمایا کہ (وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِِلٰہًا آخَرَ لاَ بُرْھَانَ لَہٗ بِہٖ فَاِِنَّمَا حِسَابُہُ عِنْدَ رَبِّہٖ اِِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الْکٰفِرُوْنَ ) (جو شخص اللہ کے ساتھ اور کسی معبود کو پکارے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہوگا بلاشبہ بات یہ ہے کہ کافر لوگ کامیاب نہ ہونگے) ۔
Top