Anwar-ul-Bayan - Al-Muminoon : 20
وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ
وَشَجَرَةً : اور درخت تَخْرُجُ : نکلتا ہے مِنْ : سے طُوْرِ سَيْنَآءَ : طور سینا تَنْۢبُتُ : گتا ہے بِالدُّهْنِ : تیل کے ساتھ لیے وَصِبْغٍ : اور سالن لِّلْاٰكِلِيْنَ : کھانے والوں کے لیے
اور ہم نے ایک درخت پیدا کیا جو طور سیناء سے تیل لیے ہوئے اگتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن لے کر اگتا ہے۔
پھر فرمایا (وَشَجَرَۃً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَاءَ ) (اور ہم نے تمہارے لیے ایک درخت کو پیدا کیا جو طور سیناء سے نکلتا ہے) وہ تیل لے کر اور کھانے والوں کے لیے سالن لے کر اگتا ہے اس سے زیتون کا درخت مراد ہے اس کو سورة النور میں شجرہ مبارکہ (برکت والا درخت) فرمایا ہے اور سورة والتین میں اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم کھائی ہے، یہ درخت بڑے منافع اور فوائد کا درخت ہے اس کے دو فائدے تو یہاں اسی آیت میں بیان فرما دیئے ہیں۔ اول تو یہ اس کا تیل بہت نافع ہے بہت سے کاموں میں آتا ہے دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس میں روٹی ڈبو کر کھاتے ہیں اور سالن کی جگہ استعمال کرتے ہیں، اور خود زیتون کے دانے بھی روٹی سے اور بغیر روٹی ڈبو کر کھاتے ہیں زیتون کا درخت زیادہ تر ملک شام میں ہوتا ہے شام ہی میں طور سیناء ہے جسے سورة والتین میں وطور سینین فرمایا ہے یہ تو عام طور سے پڑھے لکھے لوگ جانتے ہی ہیں کہ طور ایک پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین سے مصر کو آتے ہوئے آگ دیکھی تھی پھر جب وہاں آگ لینے کے لیے گئے تو پہلی بار خالق کائنات جل مجدہ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہو اب رہی یہ بات کہ سیناء اور سینین کا کیا مطلب ہے ؟ سو حضرت مجاہد تابعی نے فرمایا کہ یہ دونوں برکت کے معنی میں ہیں اور حضرت قتادہ نے فرمایا کہ اس کا معنی ہے۔ الجبل الحسن اور حضرت مجاہد تابعی کا ایک یہ قول ہے کہ سیناء مخصوص پتھروں کا نام ہے جو طور پہاڑ کے پاس ہوتے ہیں اس لیے ان کی طرف نسبت کی گئی ہے اور حضرت عکرمہ نے فرمایا سیناء اس جگہ کا نام جس میں طور پہاڑ واقع ہے۔ (معالم التنزیل جلد 3 صفحہ 302)
Top