Anwar-ul-Bayan - Al-Muminoon : 51
یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ
يٰٓاَيُّهَا : اے الرُّسُلُ : رسول (جمع) كُلُوْا : کھاؤ مِنَ : سے الطَّيِّبٰتِ : پاکیزہ چیزیں وَاعْمَلُوْا : اور عمل کرو صَالِحًا : نیک اِنِّىْ : بیشک میں بِمَا : اسے جو تَعْمَلُوْنَ : تم کرتے ہو عَلِيْمٌ : جاننے والا
اے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو بلاشبہ میں ان کاموں کو جانتا ہوں جنہیں تم کرتے ہو،
طیبات کھانے کا حکم، متفرق ادیان بنا کر مختلف جماعتیں بنانے والوں کا تذکرہ، مال اور اولاد کا خیر ہونا ضروری نہیں یہ چھ آیات ہیں پہلی آیت میں فرمایا کہ ہم نے اپنے رسولوں کو حکم دیا کہ تم پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے بیشک اللہ پاک ہے اور وہ پاک ہی کو قبول فرماتا ہے (پھر فرمایا کہ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو جو حکم دیا ہے وہی مومنین کو حکم فرمایا ہے رسولوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے ( ٰٓیاََیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنْ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا) (اے رسولو پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو) اور مومنین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ ) (اے ایمان والو تمہیں جو پاکیزہ چیزیں دی ہیں ان میں سے کھاؤ) ۔ (الحدیث رواہ مسلم ج 1 صفحہ 326) یہ حکم تین چیزوں پر مشتمل ہے کہ ایک یہ ہے کہ حرام اور خبیث چیزیں نہ کھائیں دوسرے یہ کہ جو پاکیزہ چیز نصیب ہو اسے کھا لیں تیسرے یہ کہ کھائیں بھی اور نیک عمل بھی کریں، پاکیزہ چیزیں کھانے سے جو صحت اور قوت حاصل ہو اسے اللہ کی فرماں برداری میں خرچ کریں، اس کے احکام پر عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے منتفع ہونا اور انہیں گناہوں میں لگانا یہ ناشکری ہے، سورة سبا میں فرمایا (کُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّکُمْ وَاشْکُرُوْا لَہٗ ) (کھاؤ اپنے رب کے رزق سے اور اس کا شکر ادا کرو) کوئی شخص بھی عمل کرے یہ سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ کو میرے سب اعمال کا علم ہے اعمال صالحہ باعث اجر ثواب اور برے اعمال آخرت میں مواخذہ کا سبب ہیں۔ دوسری اور تیسری آیت میں فرمایا کہ یہ جو دین ہم نے تمہیں دیا ہے یہی تمہارا طریقہ ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کا یہی دین تھا اس دین کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو واحد، احد اور صمد مانو اور اس کی ربوبیت کا اقرار کرو یعنی اسے رب مانو اور اس سے ڈرو اور موت سے ڈرو۔ اور موت کے بعد جی اٹھنے پر بھی ایمان لاؤ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے بارے میں صحیح عقائد رکھنے کا حکم بھی آگیا اور قیامت پر ایمان لانے پر بھی اور فرائض و واجبات کے ادا کرنے اور گناہوں سے بچنے کا بھی، دین توحید کو اللہ تعالیٰ نے نبیوں کے ذریعہ بھیجا بہت سی اقوام نے اسے اختیار نہیں کیا اور اپنی طرف سے عقائد تجویز کرلیے اور اعمال بنا لیے، ان جماعتوں میں ہر ہر جماعت اپنے خود تراشیدہ دین پر ہے اور سب اپنے اپنے دین پر خوش ہیں اور مگن ہیں، جو لوگ دین سماوی کے مدعی ہیں ان کا بھی یہی حال ہے اور ان کے علاوہ جو دوسرے ادیان کے ماننے والے ہیں وہ بھی اسی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، انہیں خود بھی اقرار ہے کہ ہم جس دین پر ہیں اس کے بارے میں ایسی کوئی سند حجت اور دلیل نہیں ہے جس سے یہ ثابت کرسکیں کہ اپنے اس دین پر چلنے سے آخرت میں نجات ہوگی اور یہ کہ جس دین پر ہیں وہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے، مدعیان اسلام میں بھی بہت سی ایسی جماعتیں ہیں جو اس دین پر نہیں ہیں جو سید الانبیاء ﷺ لے کر آئے تھے ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو قرآن مجید کی تحریف کے قائل ہیں اور وہ لوگ بھی ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہونے کے منکر ہیں اور سب اپنے اپنے خیال میں مست ہیں اپنے عقیدہ کے خلاف سوچنے کو تیار نہیں ہیں، جو قرآن کو اور قرآن کی تصریحات کو نہ مانیں بھلا وہ کیسے مسلمان ہوسکتے ہیں ؟ لیکن ان لوگوں کو زبردستی اپنے مسلمان ہونے کا دعویٰ ہے۔ (قَاتَلَھُمُ اللّٰہُ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ ) چوتھی آیت میں یہ فرمایا کہ اے رسول ﷺ آپ نے انہیں تبلیغ کردی ہے حق واضح کردیا بات سمجھا دی اب یہ آپ کی دعوت پر لبیک نہیں کہتے تو انہیں ایک خاص وقت تک ان کی جہالت پر چھوڑ دیجیے جب یہ لوگ مریں گے تو انہیں حقیقت حال معلوم ہوجائے گی۔ پانچوں اور چھٹی آیت میں یہ بتایا کہ یہ جو منکرین اور مکذبین آپ پر ایمان نہیں لاتے اور دنیاوی اعتبار سے ہم انہیں بڑھا رہے ہیں اور ترقی دے رہے ہیں اموال بھی بڑھ رہے ہیں اور بیٹوں کی بھی چہل پہل ہے کیا ان لوگوں کو یہ خیال ہے کہ ہم انہیں فائدے پہنچانے میں جلدی کر رہے ہیں ؟ ان کا یہ سمجھنا غلط ہے یہ تو ہماری طرف سے استدراج یعنی ڈھیل ہے یہ لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہیں انہیں معلوم نہیں کہ ہم کفر کے ساتھ جو اموال اولاد میں ترقی دیتے ہیں یہ اس لیے ہوتی ہیں کہ لوگ ان چیزوں سے مغرور ہو کر اور زیادہ سر کشی اختیار کریں اور پھر بہت زیادہ عذاب میں مبتلا ہوں۔ فائدہ : (کُلُوْا مِنْ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا) میں اس طرف ارشاد ہے کہ حلال غذا کو عمل صالح میں بڑا دخل ہے، جب غذا حلال ہوتی ہے تو خود بخود اعمال صالحہ کی رغبت ہوتی ہے اور غذا حرام ہو تو اعمال صالحہ کی طرف طبیعت نہیں چلتی شیطان حرام کی طرف کھینچتا ہے اور گناہ کرواتا ہے عموماً اس کا مشاہدہ ہوتا رہتا ہے۔
Top