Anwar-ul-Bayan - Al-Muminoon : 93
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ
قُلْ : فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اِمَّا تُرِيَنِّيْ : اگر تو مجھے دکھا دے مَا يُوْعَدُوْنَ : جو ان سے وعدہ کیا جاتا ہے
آپ یوں دعا کیجیے کہ اے میرے رب جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے
برائی کو اچھے طریقہ پر دفع کرنا اور شیاطین کے آنے اور وساوس ڈالنے سے اللہ کی پناہ لینا قرآن مجید میں بہت سی جگہ کافروں پر عذاب آنے کی وعید مذکور ہے موت کے بعد تو ہر کافر کو عذاب میں داخل ہونا ہی ہے دنیا میں بھی کبھی کبھی کہیں کہیں عذاب آجاتا ہے عذاب آنے کی جو وعیدیں ہیں چونکہ کوئی تاریخ مقرر کرکے نہیں بتائی گئی اور یہ بھی نہیں بتایا کہ عذاب آئے گا تو رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں آئے گا یا آپ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد نازل ہوگا اس لیے رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ شانہٗ نے تلقین فرمائی کہ آپ یوں دعا کریں اے میرے رب اگر آپ مجھے وہ عذاب دکھا دیں جس کا ان لوگوں سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو مجھے ظالموں کے ساتھ نہ کیجیے یعنی مجھے عذاب میں مبتلا نہ فرمائیے دنیا میں جب کسی قوم پر عذاب آتا ہے تو ان کے آس پاس جو لوگ ہوتے ہیں وہ بھی مبتلائے عذاب ہوجاتے ہیں یہ دنیاوی معاملہ ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل فرماتا ہے تو وہاں جو لوگ بھی موجود ہوں سب پر عذاب نازل ہوتا ہے پھر قیامت کے دن اپنے اپنے اعمال کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔ (رواہ البخاری) آیت بالا کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ اگر میری موجودگی میں ان لوگوں پر عذاب آجائے اور میرے دیکھتے ہوئے عذاب آنا ہی ہے تو مجھے ظالموں کے ساتھ نہ رکھئے آپ اللہ کے معصوم نبی تھے جب تکذیب کرنے والی امتوں پر عذاب آتا تھا تو حضرات انبیاء کرام علیھم الصلاۃ والسلام اور ان حضرات کے متبعین عذاب سے محفوظ رہتے تھے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو مذکورہ بالا دعا کی تلقین فرمائی اس میں ایک تو آپ کو اس طرف متوجہ فرمایا کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت اور خوف و خشیت کی شان ہونی چاہئے اور ساتھ ہی دیگر مومنین کو بھی تلقین ہوگئی کہ یہ دعا کیا کریں، اس میں حضرات صحابہ کو بھی خطاب ہوگیا اور بعد میں آنے والے اہل ایمان کو بھی۔
Top