Tafseer-e-Usmani - Al-Baqara : 266
اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ
اَلْاَعْرَابُ : دیہاتی اَشَدُّ : بہت سخت كُفْرًا : کفر میں وَّنِفَاقًا : اور نفاق میں وَّاَجْدَرُ : اور زیادہ لائق اَلَّا يَعْلَمُوْا : کہ وہ نہ جانیں حُدُوْدَ : احکام مَآ : جو اَنْزَلَ : نازل کیے اللّٰهُ : اللہ عَلٰي : پر رَسُوْلِهٖ : اپنا رسول وَاللّٰهُ : اور اللہ عَلِيْمٌ : جاننے والا حَكِيْمٌ : حکمت والا
کیا پسند آتا ہے تم میں سے کسی کو یہ کہ ہو وے اس کا ایک باغ کھجور اور انگور کا بہتی نیچے اسکے نہریں اس کو اس باغ میں اور بھی سب طرح کا میوہ حاصل ہو اور آگیا اس پر بڑھاپا اور اس کی اولاد ہیں ضعیف تب آپڑا اس باغ پر ایک بگولا جس میں آگ تھی جس سے وہ باغ جل گیا یوں سمجھاتا ہے تم کو اللہ آیتیں تاکہ تم غور کرو2
2 یہ مثال ان کی ہے جو لوگوں کو دکھانے کو صدقہ خیرات کرتے ہیں یا خیرات کر کے احسان رکھتے ہیں اور ایذاء پہنچاتے ہیں یعنی جیسے کسی شخص نے جوانی اور قوت کے وقت باغ تیار کیا تاکہ ضعیفی اور بڑھاپے میں اس سے میوہ کھائے اور ضرورت کے وقت کام آئے۔ پھر جب بڑھاپا آیا اور میوے کی پوری حاجت ہوئی تب وہ باغ عین حالت احتیاج میں جل گیا یعنی صدقہ مثل باغ میوہ دار کے ہے کہ اس کا میوہ آخرت میں کام آئے۔ جب کسی کی نیت بری ہے تو وہ باغ جل گیا پھر اس کا میوہ جو ثواب ہے کیونکر نصیب ہو حق سبحانہ، اسی طرح کھول کر سمجھاتا ہے تم کو آیتیں تاکہ غور کرو اور سمجھو۔
Top