Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 25
وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ
وَهُوَ الَّذِيْ : اور وہ اللہ وہ ذات ہے يَقْبَلُ : جو قبول کرتا ہے التَّوْبَةَ : توبہ کو عَنْ عِبَادِهٖ : اپنے بندوں سے وَيَعْفُوْا : اور درگزر کرتا ہے عَنِ السَّيِّاٰتِ : برائیوں سے وَيَعْلَمُ مَا : اور وہ جانتا ہے جو تَفْعَلُوْنَ : تم کرتے ہو
اور وہ ایسا ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور برائیوں کو معاف فرماتا ہے، اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو،
اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتا ہے اور تمہارے اعمال کو جانتا ہے، اپنی مشیت کے مطابق روزی نازل فرماتا ہے اور جب ناامید ہوجائیں، بارش برساتا ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفات جلیلہ اور نعمت ہائے عظیمہ بیان فرمائی ہے، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔ دوم یہ فرمایا کہ تم جو بھی کچھ عمل کرتے ہو وہ اسے جانتا ہے (اسے سچی توبہ کا بھی علم ہے اور صرف زبانی توبہ کو بھی جانتا ہے) سوم یہ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے (نیک اعمال میں یہ بھی داخل ہے کہ دعا کرنے والا حرام روزی سے بچتا ہو) چہارم یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اہل ایمان کے اعمال میں اضافہ فرماتا یعنی مختصر سے عمل کا بہت زیادہ ثواب عطا فرماتا ہے اور ایک عمل کئی گنا کرکے خوب بڑھا چڑھا کر ثواب عطا فرماتا ہے۔ پنجم یہ فرمایا کہ کافروں کے لیے سخت عذاب ہے وہ دنیا کی زندگی سے دھوکہ نہ کھائیں اور آخرت کے عذاب سے ڈریں۔ ششم یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے خاص اندازہ کے مطابق رزق عطا فرماتا ہے اگر وہ بندوں کے لیے رزق کو پھیلا دے یعنی بہت زیادہ دے دے اور سبھی کو بہت زیادہ مال مل جائے تو زمین میں بغاوت کرنے لگیں لیکن وہ ایسا نہیں کرتا کچھ لوگ زیادہ پیسے والے ہیں کچھ کم پیسے والے ہیں کچھ فقیر ہیں اور مسکین ہیں سب کو اس نے اپنی حکمت کے مطابق پیدا فرمایا ہے اور ہر ایک کو اپنی حکمت کے مطابق موجودہ حال میں رکھا ہے وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور سب کچھ دیکھتا ہے۔ ہفتم یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے لیے اس وقت بارش برساتا ہے جب وہ ناامید ہوچکے ہوتے ہیں وہ بارش بھی برساتا ہے رحمت بھی پھیلاتا ہے بارش میں دیر ہوتی ہے تو بندے ناامید ہوجاتے ہیں اور جب بارش ہوجاتی ہے تو خوش ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت پھیل جاتی ہے اس سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہشتم دو عظیم صفات بتاتے ہوئے فرمایا ﴿وَ هُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ 0028﴾ (اللہ تعالیٰ ولی ہے کارساز ہے) مخلوق کی حاجتیں پوری فرماتا ہے اور اس کے سارے افعال لائق ستائش ہیں وہ بہرحال تعریف کا مستحق ہے۔
Top