Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 48
فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ
فَاِنْ : پھر اگر اَعْرَضُوْا : وہ اعراض برتیں فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ : تو نہیں بھیجا ہم نے آپ کو عَلَيْهِمْ : ان پر حَفِيْظًا : نگہبان بنا کر اِنْ عَلَيْكَ : نہیں آپ کے ذمہ اِلَّا الْبَلٰغُ : مگر پہنچا دینا وَاِنَّآ : اور بیشک ہم اِذَآ : جب اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ : چکھاتے ہیں ہم انسان کو مِنَّا : اپنی طرف سے رَحْمَةً : کوئی رحمت فَرِحَ بِهَا : خوش ہوجاتا ہے وہ اس پر وَاِنْ تُصِبْهُمْ : اور اگر پہنچتی ہے ان کو سَيِّئَةٌۢ : کوئی تکلیف بِمَا قَدَّمَتْ : بوجہ اس کے جو آگے بھیجا اَيْدِيْهِمْ : ان کے ہاتھوں نے فَاِنَّ الْاِنْسَانَ : تو بیشک انسان كَفُوْرٌ : سخت، ناشکرا
پس اگر وہ اعراض کریں تو ہم نے آپ کو ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا آپ کے ذمہ صرف پہنچانا ہے، اور بلاشبہ بات یہ ہے کہ جب ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت چکھا دیتے ہیں تو اس پر خوش ہوتا ہے اور اگر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے انہیں کوئی مصیبت پہنچ جائے تو بلاشبہ انسان ناشکری کرنے لگتا ہے،
انسان کا خاص مزاج رحمت کے وقت خوش اور تکلیف میں ناشکرا ! اس کے بعد انسان کا ایک مزاج بتایا اور وہ یہ ہے کہ جب اسے نعمت ملتی ہے اور رحمت الٰہی کا مظاہرہ ہوتا ہے تو خوب خوش اور مگن ہوجاتا ہے اور اگر کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے جو انسانوں کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے پہنچتی ہے تو وہ ناشکرا بن جاتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرتا ہے اور ایسے بول بولتا ہے کہ جو سابقہ نعمتیں تھیں گویا وہ اسے ملی ہی نہ تھیں، اللہ تعالیٰ کی موجودہ نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا اور معاصی سے توبہ بھی نہیں کرتا۔
Top