Anwar-ul-Bayan - Al-Hashr : 3
وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ
وَلَوْلَآ : اور اگر نہ اَنْ : یہ کہ كَتَبَ : لکھ رکھا ہوتا اللّٰهُ : اللہ عَلَيْهِمُ : ان پر الْجَلَآءَ : جلا وطن ہونا لَعَذَّبَهُمْ : تو وہ انہیں عذاب دیتا فِي الدُّنْيَا ۭ : دنیا میں وَلَهُمْ : اور ان کے لئے فِي الْاٰخِرَةِ : آخرت میں عَذَابُ النَّارِ : جہنم کا عذاب
اور اگر اللہ نے ان کے بارے میں جلا وطن ہونا نہ لکھ دیا ہوتا تو انہیں دنیا میں عذاب دیتا اور ان کے لئے آخرت میں آگ کا عذاب ہے،
ان لوگوں کا ایمان قبول کرنے سے منکر ہونا اور رسول اللہ ﷺ کے مقابلے کے لیے تیار ہوجانا ایسا عمل تھا کہ ان کو دنیا میں عذاب دے دیا جاتا جیسا کہ قریش مکہ بدر میں قتل کیے گئے، لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے لکھ دیا تھا کہ ان کو دنیا میں جلا وطنی کا عذاب دیا جائے گا (جس میں ذلت بھی ہے اور اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے توڑنا بھی ہے اور اپنے مالوں کو چھوڑ کر جانا بھی ہے) اس لیے دنیا میں اس وقت جلاوطنی کی سزا دی گئی اور آخرت میں بہرحال ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔ اس مضمون کو ﴿ وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَآءَ ﴾ میں بیان کیا گیا ہے۔
Top