Anwar-ul-Bayan - At-Taghaabun : 11
مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
مَآ اَصَابَ : نہیں پہنچتی مِنْ مُّصِيْبَةٍ : کوئی مصیبت اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ : مگر اللہ کے اذن سے وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ : اور جو کوئی ایمان لاتا ہے بِاللّٰهِ : اللہ پر يَهْدِ قَلْبَهٗ : وہ رہنمائی کرتا ہے اس کے دل کی وَاللّٰهُ : اور اللہ بِكُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز کو عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے
جو بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے وہ اللہ کے حکم سے ہے اور جو بھی کوئی شخص اللہ پر ایمان لائے وہ اس کے قلب کو ہدایت دے دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے،
جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ اللہ کے حکم سے ہے یہ سورة التغابن کے دوسرے رکوع کا ترجمہ ہے جو سات آیات پر مشتمل ہے یہ آیات متعدد مواعظ اور نصائح پر مشتمل ہیں پہلی نصیحت یہ فرمائی کہ تمہیں جو بھی کوئی مصیبت پہنچ جائے وہ اللہ کے حکم سے آتی ہے لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر راضی رہے اور جو تکلیف پہنچ جائے اس پر صبر کرے۔ سنن ابن ماجہ صفحہ 9 میں ہے : (ان ما اصابک لم یکن لیخطئك وان ما اخطاک لم یکن لیصیبک) (یعنی یہ بات اچھی طرح جان لو کہ تمہیں جو تکلیف پہنچ گئی وہ خطا کرنے والی نہ تھی اور جو تکلیف نہیں پہنچی وہ پہنچنے والی ہی نہ تھی) لہٰذا اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو تسلیم کرو اور اس پر راضی رہو، پھر فرمایا ﴿ وَ مَنْ يُّؤْمِنْۢ باللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ 1ؕ﴾ (اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت دے دیتا ہے) جس کی وجہ سے سراپار ضاء و تسلیم بن جاتا ہے تکلیف پر صبر کرتا ہے اور اس کا ثواب لیتا ہے اور ﴿اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ﴾ پڑھ کر مزید ثواب عظیم کا مستحق ہوجاتا ہے۔ ﴿وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ0011﴾ (اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے) اسے صابروں کا بھی پتہ ہے اور بےصبروں کا بھی علم ہے ہر ایک کو اس کے استحقاق کے مطابق جزادے گا۔
Top