Anwar-ul-Bayan - Al-Qasas : 253
اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ
اَمْ اَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم کو مَّنْ فِي السَّمَآءِ : اس سے جو آسمان میں ہے اَنْ يُّرْسِلَ : کہ وہ بھیجے عَلَيْكُمْ : تم پر حَاصِبًا : پتھروں کی بارش فَسَتَعْلَمُوْنَ : پس عنقریب تم جان لو گے كَيْفَ نَذِيْرِ : کیسے تھا ڈراؤ میرا
جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر ایک سخت ہوا بھیج دے سو تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا۔
پھر فرمایا کہ تمہارے سامنے یہ ہمارا رسول ایمان کی دعوت پیش کرتا ہے اس کی بات مانو اور فرمانبرداری کرو۔ اس کی دعوت پر کان نہ دھرنے اور قبول نہ کرنے سے آسمان سے بھی عذاب آسکتا ہے اور زمین سے بھی جس ذات پاک کا حکم آسمانوں میں نافذ ہے کیا تم اس کی طرف سے نڈر ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے۔ یہی زمین جس کو تمہارے قابو میں دیا ہے وہ اسی زمین کو تمہارے لیے ہلاکت اور عذاب کا سبب بنا سکتا ہے وہ اس زمین میں شگاف ڈال کر تمہیں اس میں دھنسانے لگے تو زمین تھرتھرا کر الٹ پلٹ ہونے لگے گی جس سے تم اس کے اندر چلے جاؤ گے اور اس ذات پاک کو یہ بھی قدرت ہے جس کا آسمان میں حکم اور تصرف جاری ہے کہ تم پر وہ ایک سخت ہوا بھیج دے زمین کے اوپر ہوا چلتی ہے یہاں سے وہاں جاتی ہے۔ عام حالات میں معتدل رہتی ہے کبھی تیز بھی ہوجاتی ہے لیکن عام طور سے اس کی رفتار میں اتنی تیزی نہیں ہوتی کہ لوگوں کو اٹھا کر پھینک دے اس کے خالق اور مالک جل مجدہ کو پوری طرح قدرت حاصل ہے کہ وہ ہوا کو خوب زیادہ تیز چلا دے جو زمین پر بسنے والوں کو تہس نہس کر دے جو لوگ اللہ کے رسول ﷺ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے انہیں اس سے ڈرنا چاہیے کہ وہ ہوا کے ذریعہ تمہیں ختم نہ کر دے جیسا کہ بعض گزشتہ امتوں پر ہوا کا عذاب آیا تھا۔ ﴿فَسَتَعْلَمُوْنَ كَيْفَ نَذِيْرِ 0017﴾ (سو عنقریب تم جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا تھا) اگر دنیا میں عذاب نہ آیا تو یہ نہ سمجھا جائے کہ یہاں سے صحیح سالم گزر گئے گرفت نہیں، موت کے بعد جو کفر پر عذاب ہوگا وہ بہت سخت ہوگا۔ اس وقت سمجھ میں آئے گا کہ رسولوں کے ذریعہ جو اللہ تعالیٰ نے دین بھیجا تھا وہ حق تھا، ہم جو اس کے منکر ہوئے خود اپنا ہی برا کیا اور عذاب شدید میں گرفتار ہوئے ﴿ وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ 0018﴾ (اور ان سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں انہوں نے حق کو جھٹلایا سو کیسا تھا میرا عذاب۔ پرانے مکذبین (جھٹلانے والوں) کا انجام تمہیں معلوم ہے اس سے عبرت حاصل کرلو۔
Top