Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 23
قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ الَّذِيْٓ : وہ ذات ہے اَنْشَاَكُمْ : جس نے پیدا کیا تم کو وَجَعَلَ : اور بنائے اس نے لَكُمُ السَّمْعَ : تمہارے لیے کان وَالْاَبْصَارَ : اور آنکھیں وَالْاَفْئِدَةَ : اور دل قَلِيْلًا مَّا : کتنا تھوڑا تَشْكُرُوْنَ : تم شکر ادا کرتے ہو
آپ فرما دیجئے کہ اللہ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا فرمایا اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنا دیئے تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو
اعضاء وجوارح کا شکر کرو : اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہ ٗ کا یہ احسان فرمایا کہ اس نے تمہیں پیدا کیا، تمہارا بالکل ہی وجود نہ تھا اس نے تمہیں وجود بخشا اور صرف وجود ہی نہیں دیا بلکہ بہترین اعضاء وجوارح سے آراستہ فرما دیا، تمہیں اس نے قوت سامعہ دی آنکھیں عطا فرمائیں دل عنایت فرمائے۔ ان سب نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ خوب بڑھ چڑھ کر اس کا شکر ادا کرو۔ قلب سے اور قالب سے شکر گزار بندے بنے رہو۔ سمجھداری کا تو تقاضا یہی ہے مگر تمہارا حال یہ ہے کہ بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے علم و فہم اور ادراک و شعور عطا فرمایا ہے ان کے کچھ ذرائع بھی بنا دیئے ہیں۔ دیکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انکھیں دیں سننے کے لیے قوت سامعہ عطا فرمائی، سونگھنے کے لیے ناک کے اندر قوت شامہ رکھ دی اور چکھنے کے لیے زبان کے جسم میں قوت ذائقہ ودیعت فرما دیا اور قوت لامسہ یعنی چھونے کی قوت سارے بدن میں رکھ دی۔ اعضاء کی نعمتوں میں سے یہاں تین چیزوں یعنی سمع اور بصر اور افئدہ یعنی قلوب کو ذکر فرمایا ہے یہ مضمون سورة ٴ نحل اور سورة المومنون اور سورة ٴ الم سجدہ میں بھی بیان فرمایا ہے افئدہ فواد کی جمع ہے فواد ” دل “ کو کہتے ہیں جو علم اور فہم، ادراک اور شعور کا مرکز ہے اور انسان کو زیادہ معلومات سننے سے حاصل ہوتی ہیں۔ اس کے بعد دیکھنے کا مرتبہ ہے اس سے بھی علم حاصل ہوتا ہے لیکن جو معلومات سننے سے حاصل ہوتی ہیں ان معلومات سے زیادہ ہیں جو دیکھنے سے حاصل ہوتی ہیں اس سے سمع و بصر کے ذکر پر اکتفا فرمانے اور سمع کو بصر پر مقدم فرمانے کی وجہ بھی معلوم ہوگئی گو دل کو ان حواس کے ذریعہ علم حاصل ہوتا ہے لیکن ان حواس کا ذریعہ علم ہونا بھی صحت قلب پر موقوف ہے اگر انسان کا دل ٹھکانے نہ ہو تو یہ چیزیں ادراک سے قاصر اور عاجز رہتی ہیں۔ اس اعتبار سے سمع بصر اور فواد کی نعمت کو اکٹھا بار بار بیان کرنے کی حکمت معلوم ہوگئی۔
Top