Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 28
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ
قُلْ : کہہ دیجئے اَرَءَيْتُمْ : کیا دیکھا تم نے اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ : اگر ہلاک کردے مجھ کو اللہ وَمَنْ مَّعِيَ : ار اسے جو میرے ساتھ ہے اَوْ رَحِمَنَا : یا وہ رحم کرے ہم پر فَمَنْ يُّجِيْرُ : تو کون پناہ دے گا الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کو مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ : دردناک عذاب سے
آپ فرما دیجئے کہ تم بتاؤ اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھ والوں کو ہلاک فرما دے یا ہم پر رحم فرمائے سو وہ کون ہے جو کافروں کو دردناک عذاب سے بچائے گا،
اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک فرما دیں تو کون ہے جو کافروں کو عذاب سے بچائے گا ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا کہ آپ اپنے مخاطبین سے یہ باتیں فرما دیں، پہلی بات یہ ہے کہ تم میرے لیے اور میرے ساتھ والوں کے لیے دکھ تکلیف میں مبتلا ہونے کی آرزو رکھتے ہو تم اپنے بارے میں غور کرو، دیکھو اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے (جیسا کہ تم چاہتے ہو) یا ہم پر رحم فرما دے جیسا کہ ہم اس سے یہی امید رکھتے ہیں تو اس سے تمہارا کوئی بھلا ہونے والا نہیں ہمارے لیے تو ہر حالت بہتر ہے موت بھی بہتر ہے۔ زندگی بھی رحمت ہے۔ تم پر جب کفر کا عذاب آئے گا تو تم کو کون بچائے گا اس کو سوچو۔ دوسری بات ان سے یہ فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اسی پر توکل کیا ہمیں اس سے ہر طرح سے خیر کی امید ہے اور ہم سراپا ہدایت پر ہیں لیکن تم اس بات کو نہیں مانتے۔ سنو تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں کون ہے جب تم کفر کی سزا پاؤ گے اس وقت واضح طور پر معلوم ہوجائے گا کہ تم گمراہ تھے اگرچہ ہمیں یہاں گمراہ بتاتے ہو ہم اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم اپنے بارے میں ہدایت پر ہونے کا یقین رکھتے ہیں جب اللہ تعالیٰ فیصلے فرمائے گا اور تم عذاب میں پڑو گے تو معلوم ہوجائے گا گمراہ ہم ہیں یا تم ہو ؟
Top