Anwar-ul-Bayan - Al-Insaan : 19
وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا
وَيَطُوْفُ : اور گردش کرینگے عَلَيْهِمْ : ان پر وِلْدَانٌ : لڑکے مُّخَلَّدُوْنَ ۚ : ہمیشہ (نوعمر) رہنے والے اِذَا رَاَيْتَهُمْ : جب تو انہیں دیکھے حَسِبْتَهُمْ : تو انہیں سمجھے لُؤْلُؤًا : موتی مَّنْثُوْرًا : بکھرے ہوئے
اور ان کے پاس ایسے لڑکے آمد و رفت کریں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے اے مخاطب اگر تو انہیں دیکھے تو یوں سمجھے وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں
اس کے بعد خدمت گاروں کا تذکرہ فرمایا جو شراب پلائیں گے اور دیگر خدمات انجام دیں گے۔ ﴿وَ يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ 1ۚ﴾ (اور ان کے پاس ایسے لڑکے آمد و رفت کریں گے جو ہمیشہ لڑکے ہیں رہیں گے) ۔ ﴿ اِذَا رَاَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا 0019﴾ (اے مخاطب اگر تو انہیں دیکھے تو یوں سمجھے کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں) ۔ یعنی وہ چمک دمک میں موتی کی طرح ہوں گے اور خدمات انجام دینے میں جو ادھر ادھر آئیں جائیں گے اس کی کیفیت ایسی ہوگی جیسے بکھرے ہوئے موتی ہیں کوئی موتی یہاں رکھا ہے اور کوئی وہاں دھرا ہے۔ سورة ٴ والطور میں فرمایا : ﴿وَ يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ0024﴾ اور ان کے پاس ایسے لڑکے آمد و رفت کریں گے گویا کہ وہ چھپے ہوئے موتی ہیں یہ لڑکے ان کی خدمت کے لیے خاص ہوں گے۔ (اور سورة ٴ واقعہ میں فرمایا): ﴿يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ0017 بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِيْقَ 1ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍۙ0018 لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا يُنْزِفُوْنَۙ0019﴾ (ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے آب خورے اور آفتابے اور ایسا جام لے کر آمدورفت کریں گے جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا جائے گا انہیں اس سے نہ درد سر ہوگا اور نہ عقل میں فتور آئے گا) ۔
Top