Anwar-ul-Bayan - Al-Insaan : 28
نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا
نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ : ہم نے انہیں پیدا کیا وَشَدَدْنَآ : اور ہم نے مضبوط کئے اَسْرَهُمْ ۚ : ان کے جوڑ وَاِذَا شِئْنَا : اور جب ہم چاہیں بَدَّلْنَآ : ہم بدل دیں اَمْثَالَهُمْ : ان جیسے لوگ تَبْدِيْلًا : بدل کر
ہم ہی نے انہیں پیدا کیا اور ہم ہی نے ان کے جوڑ مضبوط بنائے اور ہم جب چاہیں ان کے جیسے لوگ بدل دیں،
جو لوگ قیامت کے دن زندہ ہو کر اٹھنے پر تعجب کرتے تھے اور وقوع قیامت کے منکر تھے ان کے استعجاب اور انکار کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ﴿ نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ 1ۚ﴾ (ہم ہی نے ان کو پیدا کیا اور ہم ہی نے ان کے جوڑ بند مضبوط کیے) ۔ ﴿ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِيْلًا 0028 ﴾ (اور ہم جب چاہیں ان کے جیسے لوگ بدل دیں) یعنی ان کی جگہ ان جیسے لوگ پیدا کردیں۔ جس ذات پاک نے اولاً پیدا کیا مضبوط بنایا وہ تمہاری جگہ دوسرے لوگ پیدا فرما سکتا ہے اور وہ تمہیں موت دے کر دوبارہ پیدا فرمانے پر بھی پوری طرح قادر ہے۔ ﴿ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ ﴾ جو فرمایا (کہ ہم نے ان کے جوڑ مضبوط کیے) اس میں اللہ تعالیٰ کے اس انعام کا بیان ہے کہ گوشت اور ہڈی اور کھال سے جو اعضاء بنے ہوئے ہیں یہ رات دن حرکت میں رہتے ہیں اٹھنے بیٹھنے میں مڑتے ہیں، کام کاج میں رگڑے جاتے ہیں لیکن نرم اور نازک ہوتے ہوئے نہ گھستے ہیں نہ ٹوٹتے ہیں جبکہ لوہے کی مشینیں بھی گھس جاتی ہیں اور بار بار پرزے بدلنے پڑتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم ہے کہ انسانی اعضاء بچپن سے لے کر بڑھاپے تک کام کرتے رہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب صبح ہوتی ہے تو تم سے ہر شخص کے جوڑوں کی طرف سے صدقہ کرنا واجب ہوجاتا ہے سو ہر سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے اور ہر الحمد للہ کہنا صدقہ ہے اور ہر لا اِلٰہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے اور ہر اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے اور نیکی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اور دو رکعتیں چاشت کی پڑھ لی جائیں تو وہ اس سب کے بدلہ کا کام دے جاتی ہیں۔ دوسری حدیث میں ہے کہ ہر انسان تین سو ساٹھ (360) جوڑوں پر پیدا کیا گیا ہے سو جس نے اللہ اکبر کہا اور الحمد للہ کہا اور لا اِلٰہ الا اللہ کہا اور سبحان اللہ کہا اور اللہ سے مغفرت طلب کی اور لوگوں کے راستہ سے پتھر کانٹا ہڈی کو ہٹا دیا یا امر بالمعروف کیا یا نہی عن المنکر کیا اور ان چیزوں کی تعداد تین سو ساٹھ ہوگئی تو وہ اس دن اس حال میں چلے پھرے گا کہ اپنی جان کو دوزخ سے بچا چکا ہوگا۔ (رواہ مسلم)
Top