Anwar-ul-Bayan - At-Tawba : 92
وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ
وَّلَا : اور نہ عَلَي : پر الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو اِذَا : جب مَآ اَتَوْكَ : جب آپکے پاس آئے لِتَحْمِلَهُمْ : تاکہ آپ انہیں سواری دیں قُلْتَ : آپ نے کہا لَآ اَجِدُ : میں نہیں پاتا مَآ اَحْمِلُكُمْ : تمہیں سوار کروں میں عَلَيْهِ : اس پر تَوَلَّوْا : وہ لوٹے وَّاَعْيُنُهُمْ : اور ان کی آنکھیں تَفِيْضُ : بہہ رہی ہیں مِنَ : سے الدَّمْعِ : آنسو (جمع) حَزَنًا : غم سے اَلَّا يَجِدُوْا : کہ وہ نہیں پاتے مَا : جو يُنْفِقُوْنَ : وہ خرچ کریں
اور ان لوگوں پر بھی کوئی گناہ نہیں جو آپ کے پاس اس لیے حاضر ہوئے کہ آپ ان کو سواری دے دیں۔ آپ نے کہہ دیا کہ میں ایسی کوئی چیز نہیں پاتا جس پر تمہیں سوار کر دوں، وہ اس حال میں واپس ہوگئے کہ اس رنج میں ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے کہ وہ خرچ کرنے کے لیے نہیں پاتے۔
پھر فرمایا (وَّ لَا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَھُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ ) (اور ان لوگوں پر بھی کوئی گناہ نہیں جو آپ کے پاس آئے کہ آپ انہیں سواری دے دیں ان کے جواب میں آپ نے فرما دیا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کرا دوں) ۔ البدایہ و النہایۃ (ص 5 ج 5) میں لکھا ہے کہ سات افراد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سواری طلب کرنے کے لیے حاضر ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک سالم بن عمیر، دوسرے علبہ بن زید، تیسرے ابو لیلی عبدالرحمن بن کعب چوتھے عمرو بن الحمام، پانچویں عبداللہ بن معلق چھٹے حرمی بن عبداللہ اور ساتویں عرباض بن ساریہ ؓ تھے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم اپنے دل سے پوری طرف تیار ہیں آپ کے ساتھ سفر میں جانا چاہتے ہیں لیکن سواری نہ ہونے سے مجبور ہیں آپ ہمیں سواری عنایت فرما دیں (قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ ) آپ نے فرمایا میرے پاس کوئی سامان نہیں تاکہ تمہارے لیے سواری کا نتظام کر دوں۔ (تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَ ) (وہ اس حال میں واپس ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے اس وجہ سے آنسو بہ رہے تھے کہ وہ خرچ کرنے کے لیے نہیں پاتے) اول تو یہ حضرات معذور تھے واقعی معذوری ہی جہاد میں شرکت نہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ پھر انہوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا۔ اور واقعی عذر کو بھی عذر نہ سمجھا۔ اور انہیں یہ گوارا نہ ہوا کہ آنحضرت ﷺ تشریف لے جائیں اور خود پیچھے رہ جائیں۔ وہ خدمت عالی میں حاضر ہوئے کہ ہمارے لیے سواری کا انتظام فرما دیں۔ جب آپ نے فرما دیا کہ میرے پاس کوئی انتظام نہیں ہے تو اس پر بھی بس نہ کیا اور اپنے دلوں میں یوں نہ کہا کہ اب تو ہم نے اپنی آخری کوشش کرلی اب جہاد میں نہ گئے تو کیا حرج ہے ؟ وہ اپنی معذوری والی مجبوری پر رنجیدہ ہو رہے تھے۔ اور رنج بھی معمولی نہیں۔ ان کے چہروں پر آنسوؤں کی لڑی تھی اور وہ اس رنج میں گھلے جا رہے تھے کہ ہائے ہمارے پاس انتظام نہیں ہے انتظام ہوتا تو ہم ضرور ساتھ جاتے۔ اس موقعہ پر جہاں وہ لوگ موجود تھے جو جھوٹے عذر بنا بنا کر پیچھے ہٹ رہے تھے، ان میں وہ حضرات بھی تھے جو عذر ہوتے ہوئے بھی جہاد کی شرکت کے لیے تڑپ رہے تھے۔ حضرات صحابہ کرام ؓ نے امت کے لیے کیسی کیسی قابل اقتداء روایات چھوڑی ہیں۔ اس کے بعد آپ نے بعض حضرات کے لیے سواری کا انتظام فرما دیا۔ اور بعض حضرات کے لیے انتظام کی صورت یہ ہوئی کہ ابو لیلیٰ عبدالرحمن بن کعب اور عبداللہ بن مفغل ؓ کی راستہ میں یامین بن عمیر نضری ؓ سے ملاقات ہوگئی۔ یہ دونوں روتے ہوئے جا رہے تھے۔ یامین نے دریافت کیا تم کیوں رو رہے ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور عرض کیا کہ ہمارے پاس کوئی انتظام نہیں تاکہ آپ کے ساتھ سفر میں جائیں۔ آپ ہمارے لیے سواری کا انتظام فرما دیں۔ آنحضرت ﷺ کے پاس بھی سواری نہیں تھی جو عنایت فرما دیتے ہمارا رونا اسی وجہ سے ہے کہ شرکت جہاد سے رہے جا رہے ہیں۔ اس پر یامین نے اپنی ایک اونٹنی پیش کردی اور اپنے پاس سے بطور توشہ کھجوریں بھی دے دیں اور علبہ بن زید کے ساتھ یہ ہوا کہ وہ رات کو نماز پڑھتے رہے اور روتے رہے اور یوں دعا کی کہ اے اللہ آپ نے جہاد کا حکم فرمایا اور اس میں شریک ہونے کی ترغیب دی پھر مجھے مال نہیں دیا جس سے میں جہاد کی شرکت کے لیے قوت حاصل کرلیتا اور نہ آپ نے اپنے رسول کو (اس وقت) مال عطا فرمایا تاکہ میرے لیے سواری کا انتظام فرما دیتے۔ اب میں جہاد سے محرومی کے بدلہ میں یہ کرتا ہوں کہ جس کسی مسلمان سے مجھے کوئی تکلیف پہنچی ہے یا کسی کا مجھ پر کوئی مالی حق ہے میں اسے معاف کرتا ہوں۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے سوال فرمایا کہ اس رات کس نے صدقہ دیا۔ کسی نے بھی جواب نہ دیا، آپ نے فرمایا آج رات جس نے صدقہ دیا ہو وہ کھڑا ہوجائے اس پر علبہ بن زید کھڑے ہوئے اور اپنا حال بنایا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم خوشخبری قبول کرو، قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تمہارے لیے مقبول زکوٰۃ کا ثواب لکھا گیا۔ غزوۂ تبوک کی تیاری کے لیے حضرت ابو موسیٰ اشعری کے قبیلے کے چند افراد نے بھی حضرت ابو موسیٰ کے واسطہ سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں درخواست پیش کی تھی کہ ہمارے لیے سواری کا انتظام کیا جائے اس وقت آپ نے ان کے لیے چھ اونٹوں کا انتظام فرما دیا۔ (ایضا ص 6 ج 5)
Top